بلولی میں شہریت ترمیمی بل کی مخالفت میں تاریخ ساز احتجاجی دھرنا

بلولی:( ابرار بیگ انعامدار ) مرکزی حکومت کی جانب سے دونوں پارلیمانی ایوانوں میں پاس کردہ شہریت ترمیمی بل ک مخالفت میں ملک بھر میں احتجاجوں کا سلسلہ جاری ہے۔اسی تناظر میں بلولی شہر میں فقیدالمیثال ریالی نکال کر احتجاجی دھرنا کیا گیا۔جو گاندی چوک سے نکلکر دفتر ڈپٹی کلکٹر آفس پہنچا۔ جس نہ صرف مسلمان بلکہ مختلف سیاسی سماجی تنظیموں سے وابستہ ابناء وطن نے بھی شرکت کرکے اس غیر منصفانہ اور جارہیت پسند شہریت ترمیمی بل کے خلاف اپنے غم وغصہ کا اظہار کیا۔اس احتجاج جلوس میں بلولی کنڈلواڑی کاسرالی سے آے ہوے ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کرت ہوے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھامے ڈپٹی کلکٹر آفس پہنچے۔

بلولی شہر میں ممنون کملیش تیواری، جلوس اور تین طلاق جلوس کے بعد یہ تیسرا عظیمالشان دھرنا پیش کیا گیا۔اس احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہو کولی سماج سے تعلق رکھنے والے نوجوان کونسلر انوپ انکوشکر نے کہا کہ آسام میں این آر سی کیا گیا 19 لاکھ لوگوں کے نام شامل نہں ہے جس میں 12 لاکھ لوگ ہندو ہے۔ اسکےخلاف آسام میں بجرنگ دل نے آسام بند کرایا تھا۔لیکن میڈیا کی خراب پالیسی نے اسے عوام کے سامنے نیہں لایا۔مزید انہوں نے کہا کہ ہندو مسلم کے بہائ چارے کو 150 سالہ حکومت میں انگریز نیہں توڑ سکے تو یہ امیت شاہ مودی کی اوقات کیا۔اور اب حکومت کی اُلٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔

یہ سرکار نے گزشتہ چار سالوں میں 17 لاکھ 17 ہزار کروڑ روپے امیر لوگوں کے انہوں نے معاف کیے ہے۔ سماجی کارکن ولی اولدین فاروقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہریت ترمیمی بل کی مخالفت میں جامے شہادت نوش فرنانے والے بھایوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد انہوں نے مودی اور شاہ کو چیالنج کرتے ہوے کہا کہ تمیہں این آر سی سے پہلے ہم مسلمانوں پہلے شہید کرے پھر بل لاگو کرے۔ مزید انہھوں نے جنگ احد کا واقعہ یاد دلاتے ہوے کہا کہ ہمیں جنگ لڑنا اور جیتنا آتا ہے جس کی مسال ماضی کی تاریخ پر روشنی ڈالنے سے ملتی ہیں۔اسکے بعد دلت سماج سے تعلق رکھنے والے صحافی راجیندر کامبڑے نے کہا کہ این آر سی کی لڑائ صرف مسلمانوں کی نیہں ہیں بلکہ یہ ملک کہ 40 فیصد لوگوں کے خلاف کا بل ہے۔ امیت شاہ خود کو تانہ شاہ سمج رہا ہے۔ اس احتجاج دھرنے سے حافظ مبین حافظ احمد بیگ شیخ سلیمان ماروتی پٹایت جاوید قریشی مناپواڑے غوثالدین قریشی نے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پر صحافی ابرار بیگ، کونسلر شاہد بیگ امجد چاوس مکرم فاروقی عبدلباصد ارشاد مولانا ریاض صدیقی دھمم دیپ گاونڈے شیخ مستاق اعجاز فاروقی مادوھو ایڑکے سنجے کمار کے علاوہ طلباء نوجوان بزرگ بڑی تعداد میں موجود تھے ۔جو انقلاب زندہ باد ، دستور بچاو ملک بچاو این آر سی سی اے اے منسوخ کرو کے نارے دے رہے تھ ے۔بعدازاں طے شدہ وفد کء جانب سے ڈپٹی کلکٹر کو ایک میمورنڈم دیا گیا۔جمعہ روز دھرنا ہونے کی وجہھ سے پولیس کی جانب سے بندوبست کیا گیا تھا۔مسلمانوں کی تجارتی کاروبار 100 فیصد رظاکارانہ طور پر بند تھی۔مجمعوعی طور پر احتجاج پر امن رہا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading