بلاری کی مسجد میں چپل پھینکنے پر 4 افراد گرفتار

بلاری(کرناٹک): گنیش جلوس کے دوران سروگپا کی ایک مسجد میں چپل پھینکنے پر بلاری پولیس نے 4 افراد کو گرفتار کرلیا۔ملزمین نے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے یہ جرم کیا تھا۔ اے ڈی جی پی(لا اینڈآرڈر) آلوک کمار نے بتایا کہ ہم نے 4ملزمین کو پکڑلیا ہے اور ان کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کی جائے گی۔ابتدا میں پولیس‘ مسجد میں چپل پھینکنے والوں کی شناخت نہیں کرپائی تھی لیکن سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد گرفتاریاں عمل میں آئیں۔

دی انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق کرناٹک کے بلاری ضلع میں پولیس نے اتوار کے روز 10 ستمبر کو گنیش تہوار کے جلوس کے دوران سریگپا شہر کی ایک مسجد پر مبینہ طور پر چپل پھینکنے کے الزام میں چار افراد کو گرفتار کیا۔
پولیس حکام نے ہفتے کے روز جلوس میں ہونے والے واقعے کو دیکھا تھا، لیکن وہ شناخت نہیں کر سکے کہ چپل کس نے پھینکی تھی۔ تاہم واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
بلاری کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سیدولو ادوتھ نے دی نیو انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ چاروں ملزمین کی شناخت نتیش کمار، بھیمنا، اشوک اور انجینیالو کے طور پر کی گئی ہے۔
انھوں نے کہا ’’ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر پولیس نے فوری طور پر چار نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔ صورت حال مکمل طور پر قابو میں ہے اور ہم سوشل میڈیا پوسٹس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر سوشل میڈیا پر تشدد اور فرقہ وارانہ تصادم سے متعلق کوئی پوسٹ شیئر کی گئی تو ہم سخت کارروائی کریں گے۔‘‘
کرناٹک کے ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس آلوک کمار نے بھی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ گرفتار افراد کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کی جائے گی۔
کرناٹک کے کالابوراگی ضلع میں 10 ستمبر کو ایک اور واقعہ میں گنیش چترتھی کے جلوس میں عقیدت مندوں نے ایک مسجد کے پاس سے گزرتے ہوئے فرقہ وارانہ اشتعال انگیز گانا بجایا تھا۔
دی نیوز منٹ کی خبر کے مطابق اس واقعے کی ویڈیو کے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کرنے کے بعد کرناٹک پولیس نے منتظمین کے ساتھ ساتھ جلوس میں گانے بجانے والے ڈسک جاکی کے خلاف پہلی معلوماتی رپورٹ درج کی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading