بریکینگ نیوز: 22 جنوری کی چھٹی منسوخ کریں، عدالت میں PIL دائر، آج فوری سماعت

ممبئی:( ورقِ تازہ نیوز)بمبئی ہائی کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ رام للا براجمان کے اعزاز میں پیر 22 جنوری کو مرکزی حکومت کی طرف سے دی گئی آدھے دن کی چھٹی اور ریاستی حکومت کی طرف سے مہاراشٹر میں اعلان کردہ پورے دن کی چھٹی کو منسوخ کیا جائے۔

اس درخواست پر اتوار کو فوری سماعت ہوگی۔ قانون کی طالبات شیوانگی اگروال، ستیہ جیت سالوے، ویدانت اگروال اور خوشی بنگیا نے مفاد عامہ کی یہ عرضی دائر کی ہے۔

اس اچانک اعلان کردہ سرکاری تعطیل سے نہ صرف تعلیمی نقصان ہوتا ہے بلکہ بینک بند ہونے کی وجہ سے مالیاتی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے درخواست کے ذریعے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس چھٹی کو منسوخ کیا جائے۔ خصوصی جسٹس گریش کلکرنی اور جسٹس ڈاکٹر نیلا گوکھلے کی بنچ تشکیل دی گئی ہے۔

حکومت کا مذہبی پروگرام میں شرکت کرنا اور اسے منانا سیکولرازم پر حملہ ہے۔ مرکزی حکومت کو عام تعطیلات کا اعلان کرنے کا اختیار ہے۔ ریاستی حکومت کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ مجاہدین آزادی یا عظیم شخصیات کی یاد میں سرکاری چھٹیاں دی جا سکتی ہیں۔ رام للا کا واقعہ مذہبی ہے۔

اس کے لیے کوئی سرکاری چھٹی نہیں دی جا سکتی۔ بھارت میں سینکڑوں مندر بنائے جا رہے ہیں، درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے کہ مندر کے ہر پروگرام کے لیے چھٹی کا اعلان کیا جائے تو سال کے 365 دن کم پڑ جائیں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading