پربھنی: 10دسمبر(ورقِ تازہ نیوز) شہر میں بھارت رتن ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کے آئین کی نقل کے مجسمے کو ایک شخص نے اس کی جگہ سے ہٹا دیا اور اس کی توہین کی۔ یہ واقعہ آج بروز منگل کو شام 4:30 اور 5:30 کے درمیان پیش آیا۔ اس واقعہ کے بعد مذکورہ حرکت کرنے والے شخص کو مقامی لوگوں، نوجوانوں اور بھیڑ نے زدوکوب کیا۔
اس کے بعد بھیڑ نے موقع پر سڑک بلاک کرکے احتجاج کیا۔ اس سے شام کے وقت شہر میں تناو¿ کا ماحول پیدا ہوگیا۔ پربھنی شہر میں کلکٹر آفس کے سامنے ہائی وے کے پاس بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کا مجسمہ ہے۔ اس مجسمے کو چند ماہ قبل آراستہ کیا گیا تھا۔ پورے لمبے مجسمے کے سامنے ہندوستان کے آئین کی نقل رکھی گئی ہے۔ آئین کی اس نقل کو منگل کی شام تقریباً ساڑھے چار بجے ایک سرپھرے نوجوان نے اس جگہ سے ہٹا دیا۔ اس بات کا علم ہوتے ہی متعلقہ شخص کو مقامی بھیڑ، نوجوانوں اور شہریوں نے زدوکوب کیا۔ نیو مونڈھا اور پولیس نظام کی مختلف ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔
اس کے بعد متعلقہ شخص کو ہجوم نے اپنی تحویل میں لے کر پولس کے حوالے کردیا۔ ہجوم نے دیوی گیری ایکسپریس کو روک دیا۔اس واقعہ کے بعد سینکڑوں نوجوان، امبیڈکر سے محبت کرنے والے اور شہری بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمے کے گرد جمع ہوگئے۔ بھیڑ نے شاہراہ پر مجسمہ کے سامنے راستہ روکو تحریک شروع کی۔
سب ڈویژنل پولیس آفیسر دنکر دمبالے، لوکل کرائم برانچ کے پولس انسپکٹر اشوک گھوربند، نیو مونڈھا کے پولیس انسپکٹر شرد مرے، اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر بی آر بندکھڈکے کے ساتھ آر سی پی پلاٹون اور مختلف پولیس ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ پولس افسران نے بھیڑ اور امبیڈکر سے محبت کرنے والوں سے پرسکون رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے روڈ بلاک کر کے متعلقہ شخص کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
اس واقعہ سے شہر میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا۔ شہر میں بازار بند رہے اور واقعہ کے بعد شہر کے مختلف حصوں کے بازار جلد ہی بند ہو گئے۔ اس واقعے کی اطلاع سوشل میڈیا کے ذریعے مختلف مقامات پر سامنے آنے کے بعد ہر طرف کشیدگی پھیل گئی۔ مرکزی شاہراہ پر مجسمہ کے سامنے سڑک روکو تحریک کی وجہ سے فلائی اوور، بس اسٹینڈ، ریلوے اسٹیشن، اسٹیشن روڈ،بسمت ہائی وے، چھترپتی شیواجی مہاراج مجسمہ کے علاقے کی سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔