سابق وزیر اعظم عمران خان کو اسلام آباد کی عدالت کی طرف سے توشہ خانہ کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد زمان پارک، لاہور میں واقع ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ ’تمام افسران کو اپنے علاقوں میں رہنے کی ہدایت۔ شہر کے تمام علاقوں میں چیکنگ بڑھا دی گئی ہے۔ شہر میں ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔ شہری کسی بھی سرگرمی کے متعلق پکار 15 پر اطلاع دیں۔
توشہ خانہ کیس میں ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ملزم، یعنی عمران خان، کے خلاف توشہ خانے کے تحائف حاصل کرنے کے باوجود 2019 اور 2020 میں اثاثوں کی جعلی تفصیلات دینے کا الزام ثابت ہوا ہے۔
اس میں لکھا ہے کہ عمران خان نے سرکاری خزانہ سے فوائد حاصل کیے مگر اسے ’جان بوجھ کر چھپایا‘ جس سے وہ ’بدعنوانی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔‘
’انھوں نے توشہ خانہ سے تحائف حاصل کرنے کی معلومات چھپائی، (ان کی فراہم کردہ معلومات) بعد میں جھوٹی ثابت ہوئی۔ ان کی بد دیانتی بغیر کسی شک کے ثابت ہوتی ہے۔‘
اس عدالتی فیصلے میں الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 174 کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ انھیں یہ الزام ثابت ہونے پر تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جاتی ہے۔
’اگر وہ (جرمانے کی) ادائیگی نہ کر سکے تو انھیں مزید چھ ماہ قید کی سزا دی جائے گی۔‘
جج ہمایوں دلاور فیصلے کے آخری پیراگراف میں لکھا کہ ’ملزم آج عدالت میں موجود نہیں ہیں لہذا گرفتاری کے لیے فیصلے کی کاپی اور وارنٹ آئی جی اسلام آباد کو بھیجا جائے۔‘
خیال رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج نے فیصلے میں یہ بھی لکھا ہے کہ دوپہر 12 بجے تک ملزم کی جانب سے دلائل دینے کے لیے کوئی بھی عدالت حاضر نہیں ہوا جس کے بعد عدالت نے ساڑھے 12 بجے محفوظ فیصلہ سنایا۔