بریکینگ نیوز:اسرائیلی فوج کا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ یہ بیان بیروت میں رات گئے ہونے والے حملوں کے سلسلے کے بعد جاری کیا گیا ہے جن کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں نصراللہ اور حزب اللہ کے دیگر کمانڈروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے بیروت میں حزب اللہ کے مرکزی ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کا ہیڈکوارٹر شہر کے جنوبی علاقے میں ایک رہائشی عمارت میں قائم تھا۔

پینٹاگون کا کہنا ہےکہ اسرائیلی فوج کی جانب سے بیروت میں حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹر پر حملے میں امریکہ ملوث نہیں ہے اور اس کے پاس اس حملے کی پیشگی اطلاع بھی نہیں تھی۔

حسن نصراللہ کی ہلاکت کے اسرائیلی دعوے کے بعد ایرانی رہبرِ اعلیٰ کا بیان: ’تمام مزاحمتی تنظیمیں حزب اللہ کے ساتھ ہیں


حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی ہلاکت کے اسرائیلی دعوے کے بعد اپنے پہلے بیان میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے تمام مسلمانوں سے لبنان کی عوام اور حزب اللہ کی مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔سنیچر کو جاری ایک بیان میں ایرانی رہبرِ اعلیٰ نے اسرائیل پر ’نہتے لوگوں کے قتل‘ کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل نے ’غزہ میں اپنی ایک سالہ مجرمانہ جنگ سے کچھ نہیں سیکھا اور وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ خواتین، بچوں اور عام شہریوں کے اجتماعی قتل سے مزاحمتی تنظیم کی طاقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور نہ ہی اسے تباہ کیا جا سکتا ہے۔‘

تاہم آیت اللہ علی خامنہ ای کے پیغام میں حسن نصر اللہ یا ان کی اسرائیلی حملے میں ہلاکت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔خیال رہے اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اور تنظیم کے دیگر کمانڈروں کو ایک ’ٹارگیٹڈ حملے‘ میں ہلاک کر دیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اس کی جانب سے حملہ جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں حزب اللی کے ہیڈکوارٹر پر گیا گیا تھا۔

اپنے بیان میں ایرانی رہبرِ اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی افواج ’لبنانی حزب اللہ کی بنیاد کو بڑا نقصان پہنچانے کے لیے ابھی بہت چھوٹی ہیں۔‘’خطے میں تمام مزاحمتی تنظیمیں حزب اللہ کے ساتھ ہیں اور اس کی حمایت کرتی ہیں۔‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading