لندن/تہران: برطانیہ کی جانب سے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینے کے فیصلے پر ایران نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تہران میں تعینات برطانوی سفیر کو طلب کر لیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے حالیہ اقدام کو اشتعال انگیز اور دوطرفہ تعلقات کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کا یہ فیصلہ ناقابل قبول ہے اور اس کے نتائج کی ذمہ داری لندن پر عائد ہوگی۔ وزارتِ خارجہ کے حکام نے برطانوی سفیر کے سامنے باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔
دوسری جانب برطانیہ نے حال ہی میں نئے ریاستی سلامتی قوانین کے تحت آئی آر جی سی کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت، معاونت اور اس سے وابستہ سرگرمیوں کے خلاف سخت پابندیاں نافذ کی ہیں۔
برطانوی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام برطانیہ اور یورپ میں مبینہ طور پر ایران سے منسلک پراکسی گروہوں کی سرگرمیوں، دھمکیوں اور تخریبی کارروائیوں کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔
اس سے قبل برطانیہ نے لندن میں ایرانی ناظم الامور کو بھی طلب کرکے یورپ میں پراکسی گروہوں کی مبینہ سرگرمیوں پر شدید احتجاج کیا تھا، جبکہ ایران نے اس کے جواب میں تہران میں برطانوی سفیر کو طلب کرکے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق برطانیہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے