باوقار زندگی گزارنے اب مسلمانوں کیلئے تعلیم ہی واحد راستہ: مفتی حذیفہ قاسمی

دستور ہند کی دفعہ 15کاوجود ‘این آر سی بل کولاگو ہونے نہیں دے گا‘جمعیتہ علماءکے اجلاس سے ایڈوکیٹ تہورخاں کاخطاب

ناندیڑ:18اگست ۔(ورق تازہ نیوز)جمعیتہ علماءناندیڑ( محمودمدنی) کے زیراہتمام 18گست بروزاتوار کو بعدنماز مغرب فیمس فنکشن ہال‘مال ٹیکڑی روڈ میں”اگر اب بھی نہ جا گے تو۔۔۔! اس عنوان پرعلمائے کرام کی جامع تقاریر ہوئیں ۔ اس اجلاس عام کے مہمان خصوصی حضرت مولانا مفتی محمدحذیفہ صاحب قاسمی دامت برکاتہم و ناظم تنظیم جمعیتہ علماءمہاراشٹراور استاذ حدیث وتفسیر مدرسہ عربیہ سراج العلوم‘ بھیونڈی اورمقرر خصوصی ایڈوکیٹ تہورخان پٹھان ‘ قانونی مشیر جمعیتہ علماءمہاراشٹر و ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ممبئی تھے ۔ اجلاس عام کے سرپرست حضرت قاری محمداسعد صاحب صمدی اورنگراں کار حضرت مولانا سید آصف ندوی تھے ۔ ایڈوکیٹ تہورخان پٹھان نے اپنی سُلجھی ہوئی جامع تقریر میں کہا کہ تشویشناک حالات حاضرہ جو مخصوص مذہبی فرقہ پرست سیاسی جماعت کے لیڈران نے پیدا کئے ہیںان سے مسلمانوں کو قطعی مایوس اورپریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ہمیں سنجیدگی کےساتھ ان حالات کا جائزہ لیناہوگا اورر حالات سے مقابلے کےلئے نئی متحدہ حکمت عملی تیار کرکے اس پر عمل درآمد شروع کرنا ہوگا ۔ آج ہمارے دانشور و رہنما خاموش ہیں ۔ ملت کے فرزندگان کے ساتھ ملک میںجو نا انصافیاں ہورہی ہیں مظالم ڈھائے جارہے ہیں ان کے خلاف مسلمانوں کو ایک ساتھ صداے احتجاج بلندکرنے کی ضرورت ہے ۔

ایساوقت اس سے پہلے بھی آیا ہے ہمیں قطعی گھبرانے ‘خوف زدہ ہونے اور مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔جمعیتہ علماءہند سارے ملک میںصدائے احتجاج بلندکررہی ہے ۔لوگ جوق درجوق اس آواز کاساتھ دے رہے ہیں ۔ہمارا ملک ہندوستان اسپین کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ اسپین میں مسلمانوں نے 800سال تک حکومت کی تھی ۔ہندوستان میںبھی مسلمانوں نے 800 سال حکومت کی ۔جس طرح انگریزوں نے اسپین کے اقتدارسے مسلمانوں کے بے دخل کیا ۔اس طرح ہندوستان میں بھی مسلم حکمرانوں کواقتدار کی گدی سے ہٹایاگیا ۔اس لئے ہمیں اپنی تاریخ سے درس حاصل کرنا ہوگا اور ماضی کی روشنی میںحال کامطالعہ کرکے اپنے مسائل کوحل کرنا ہوگا ۔

تہور خان پٹھان نے این آر سی (قومی رجسٹریشن شہری بل) کے بارے میں واضح الفاظ میں کہا کہ یہ اس وقت تک قانون نہیں بن سکتا جب کہ بھارت کے دستور کی دفعہ 15قائم ہے ۔ایڈوکیٹ تہورخان پٹھان کی تقریر کے بعد ایڈیٹر ورق تازہ محمدنقی شاداب کوحکومت مہاراشٹر کے ریاستی مولانا ابوالکام آزاد صحافتی ایوارڈ حاصل ہونے پر صحافتی خدمات کے اعتراف میں انھیں مولانا مفتی محمد حذیفہ قاسمی کے دست مبارک سے سپاس نامہ پیش کیاگا ۔ ان کے علاوہ شہر کے مختلف نوجوانوں کواُن کی مذہبی ‘سماجی خدمات کے ضمن میں اعزازسے نوازاگیا ۔

مولانا مفتی حذیفہ قاسمی نے اپنی بصیرت افروز تقریر میں مسلمانان ہند کوہمت اور حکمت سے کام لینے کی اپیل کی۔انھوں نے تاریخی صلح حدیبیہ معاہدہ جو پیغمبر اسلام اورمکہ کے ساکنان کے درمیان ہواتھا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ایک سیاسی حکمت عملی کے تحت کیاگیاتھا ۔دو سا ل تک نہ جنگ معاہدہ ہواتھا ۔اس دوران مسلمانوں نے کافی طاقت حاصل کرلی تھی اور پھر مکہ پر حملہ آور ہوکر اسے دوبارہ قبضہ میں لے لیاتھا ۔مفتی حذیفہ نے مسلمانوں کوہرحال میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کامشورہ دیا کیونکہ تعلیم ہی آج ہمارے سارے دکھوں کا مداو ا ہے ۔ ہم پھر سے اس ملک میں باوقار پُرسکون اورعزت کی زندگی گزارنے کے اہل ہوسکتے ہیں ۔ اس اجلاس میں مولانا مظہر الحق کامل قاسمی ّ(مہتمم دارالعلوم محمدیہ حمایت نگر) ‘ مفتی مرزاوقایت اللہ بیگ قاسمی ‘مولانا محمدایوب قاسمی نے بھی اظہار خیال کیا ۔نظامت کے فرائض مولاناسید آصف ندوی نے بہ حسن وخوبی انجام دئےے۔ اس اجلاس عام مےں شہر کے علمائے کرام اور کثیرتعداد میں مسلمانوں کی تعداد شریک تھی ۔ فنکشن ہال اپنی تنگ دامنی کاشکوہ کررہاتھا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading