باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم: شہاب مرزا 

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا-لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا: علامہ اقبال مسلمانوں سے مخاطب ہو کر کہتے تھے کہ تم حق و انصاف کے علمبردار بنو ذلالت مسکینی کمزوری بزدلی کو چھوڑ کر بہادر بنو پھر اللہ تم سے دنیا کے قیادت اور رہنمائی کا کام لے گا جس طرح محمد بن قاسم نے سندھ، طارق بن زیاد نے اسپین، اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کے لئے شجاعت دکھائی تھی یہ تھے ہمارے ہیروز جنہوں نے اپنی بہادری ذہانت اور شجاعت سے تاریخ رقم کی تھی تاریخ کا ہر صفحہ مسلمانوں کے اتحاد خلوص جانثاری اور شجاعت سے بھرا پڑا ہے یہ ہندوستان کی وقتی حکومت سمجھتی ہے کہ مسلمان بزدل ہے سہہ لیں گے ڈر جائیں گے نقل مکانی کر لیں گے کیا مسلمانوں نے نقل مکانی کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے تھے؟

ازل سے اب تک کئی فرعون اور نمرود آئے ہٹلر اور مودی آے لیکن ہمارا کیا بگاڑ سکے؟ وقت کے ساتھ یہ ظالم بھی ختم ہوئے کیونکہ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے جس نے ہمیں بے سروسامان سمجھا ہم نے انہیں تاریخ کے بابوں تک سمیٹ کر رکھ دیا تاریخ میں اسے شکست خوردہ لکھا گیا ہے چاہے وہ اسپین ہو قسطنطنیہ ہوں یا پھر پانی پت! ہمارے عجائب گھروں میں رکھے ہمارے تاج آج بھی سورج چاند کو ماند کرتے ہیں اور صدیوں پرانی تلواروں کی جھنکار موجودہ تیس مار خانوں کے جگر پھاڑتی ہے بچپن میں سنتے تھے کہ ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد بھی انگریز حکمراں ان کی لاش سے ڈرتے تھے یہی تاریخ رہی مسلم حکمرانوں کی کیونکہ انہوں نے ہمیشہ عدل انصاف اور مساوات کے لئے جرات مندانہ اقدامات کیے

اور یہ وقتی حکومت کے نشے میں چور گھمنڈی حکمراں ملک کو بانٹنے کا کام کر رہے ہیں نہتے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے میں کامیاب ہوئی بزدل ظالموں کو چار دن کی چاندنی یاد آئی اور ستم ظریفی کے فیصلے نافذ کرنے کا بچکانہ کھیل انجام سے لاپروا ہو کر کھیلنے کی کوشش کی گئی اور ملک کے مسلمانوں اور دیگر عوام کے صبر کو آزمایا جانے لگا لیکن اپنی تلوار سے دنیا کی تاریخ رقم کرنے والے نے ہنوز صبر کا دامن نہیں چھوڑا کیونکہ مسلمانوں کی تاریخ رہی ھیکہ

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم

سو بار لے چکا ہے تو امتحاں ہمارا

یوں تو پورا ملک شہریت ترمیمی بل کے خلاف اٹھ چکا ہے اور باطل کے استعماری قوت کو للکار چکا ہے اقلیتوں کو بار بار دستور ہند کی دہائی دے کر تھپکا جاتا ہے لیکن باطل اپنی حرکتوں سے باز آنے سے قاصر ہیں گزشتہ 162 سالوں سے اپنی گردنوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے انصاف کا پیغام دینے والے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی اور ظلم کی انتہا کی گئی موجود حکومت کے ناپاک عزائم سے مسلمان کبھی ڈرنے والے نہیں اس وقتی شہنشاہیت کو کسی بھی وقت پیروں تلے روندنے کی قوت ہر لمحہ مسلمانوں نے دکھائی ہے اس کی مثال فلسطین شام افغانستان اور کشمیر کے نوجوان، نونہال باپردہ دوشیزائیں اور بزرگ خواتین ہیں

مسلمانوں نے انگریزوں کو سبق سکھا دیا تھا تو یہ انگریزوں کی مخبری کرنے والے منوادیوں کی حیثیت ہی کیا ہے وقتی غرور ہے شام ہوتے ہوتے ڈھل جائے گا تکلیف تو اس وقت ہوتی ہے جب 1857 سے 1947 تک اپنے خون سے جنگ آزادی کی تاریخ رقم کرنے والے مسلمانوں کو انگریزوں کے جوتے چاٹتے چاٹنے والے منووادی مسلمان ہی کے گھر میں مسلمان کی میزبانی کے بات کرنے لگے اور اس بات کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے ارمان دل میں پالنے لگے کہ جس سلطان محمود غزنوی نے انسانوں کو منوازم کی غلامی سے آزادی دلائی تھی ان انسانوں کو دوبارہ منوازم کا غلام بنا کر بستیوں سے باہر کردیا جائے لیکن ان کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا ممکن نہیں کیوں کہ ظالم ہمیشہ بزدل ہوتا ہے اور یہ بزدلی سومناتھ کی آڑ میں چھپائی نہیں جاسکتی تاج محل، قطب مینار ، لال قلعہ جیسی فلک بوس عمارتوں کی بنیادوں میں ایسی بزدلانہ کارروائیاں مسلمان کب کا دفن کر چکے اور اس کے مینار ساری دنیا میں مسلمانوں کے عدل و انصاف کے نغمے گنگناتے رہے ہیں افسوس کے آثار قدیمہ کی مدد سے ظالموں نے انکی بنیادوں کو کھریدا تو منوازم کی سڑی لاشوں کے علاوہ کچھ نہیں نکلا مذہب ذات پات اور غیر سماجی رسم اور ظلم و ستم کی داستانیں ملی اس ظلم و ستم کو گوالکر اور ساورکر نے وچار دھن یا بنچ اف تھاٹس کا نام دیا اس وچار دھن کو قبول کرنے کی دستور ساز بابا صاحب امبیڈکر پر زبردستی کی تھی لیکن بابا صاحب امبیڈکر نے اس وچاردھن کو اپنے پیروں تلے روندا اور منووادیوں کو بھیک نا ڈالتے ہوئے ناگپور کی دکشا بھومی پر بدھ ازم قبول کیا یعنی کے عدم مساوات ظلم ناانصافی اور نفرت کی آگ سے بھرے منوواد کے خلاف آزادی مساوات اور بھائی چارہ پر مبنی دستور ہند تخلیق کیا جس کے قلم 14 اور 15 کو منوازم پھر سے للکارنے کی کوشش کر رہا ہے اسے وقت رہتے روکنا ضروری ہے ملک گیر احتجاج سے رسوائی ہی ان کا مقدر بنے گی

ضرورت اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ امت واحدہ کا عملی ثبوت پیش کرے اور شہریت ترمیم بل کا کلی بائیکاٹ کرے بائیکاٹ کا مطلب نعرے بازی نہیں بلکہ عدم تعاون حکومت کو یہ دکھا دیا جائے کہ پوری امت مسلمہ دیوار کی مانند مخالفت میں کھڑی ہے اور اس وقت تک مخالفت جاری رہیں گے جب تک ظلم پر مبنی قانون واپس نہیں ہوتا بصورت دیگر ہم اسلام کے نام پر جیلوں میں جانے اور سنت یوسفی ادا کرنے تیار ہیں مالک حقیقی کی ذات پر یقین کے ساتھ ہم نبرد آزما ہوں گے تو باطل طاقتوں کو جھکنا ہی پڑیگا..

مضمون نگار

9595024421

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading