بابری مسجد اور رام جنم بھومی معاملہ پر روزانہ سماعت کا آج 17واں دن اور آج سے مسلم فریق اپنی دلیلوں کو عدالت کے سامنے رکھیں گے۔ سنی وقف بورڈ کی طرف سے سینئر ایڈووکیٹ راجیو دھون اپنے دلائل رکھیں گے اور انھوں نے پہلے ہی کہہ رکھا ہے کہ وہ اپنی بات مکمل کرنے میں 20 دن کا وقت لیں گے۔ آج راجیو دھون نے سماعت شروع ہونے کے شروع میں ہی کچھ باتوں کے لیے معافی مانگی۔ انھوں نے عدالت کے سامنے کہا کہ ’’میں میڈیا میں اپنے تبصرے اور سینئر وکیل پی این مشرا پر کیے گئے تبصرے کے لیے بھی معافی مانگتا ہوں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’سبھی جگہ یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ میں چڑچڑا ہوتا جا رہا ہے۔‘‘
اس درمیان راجیو دھون نے عدالت سے اس ہفتہ کے درمیان بدھ کے روز اپنے لیے بریک کا مطالبہ کیا۔ دھون نے کہا کہ ان کے لیے لگاتار دلیلیں پیش کرنا مشکل ہوگا۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس سے عدالت کو پریشانی ہوگی، اس لیے وہ چاہیں تو جمعہ کو بریک لے سکتے ہیں۔ دھون نے چیف جسٹس کی اس بات پر رضامندی ظاہر کی۔
#RamMandir – #BabriMasjid: Day 17 in Supreme Court today.
Muslim parties will commence their arguments. #ayodhyacase
— Bar & Bench (@barandbench) September 2, 2019
آج راجیو دھون نے اپنی دلیلیں پیش کرتے ہوئے سب سے پہلے ہندو فریقین کی کچھ باتوں کو عدالت کے سامنے رکھا۔ انھوں نے کہا کہ ’’کون سا قانون آپ کو وراثت میں ملا ہے؟ ہم جس قانون کو مانتے ہیں وہ ’ویدک قانون‘ نہیں ہے۔ 1858 سے قانون کا نظام شروع ہو گیا۔‘‘ انھوں نے مزید سوال کیا کہ ’’میں اپنی بات شروع کرنا چاہوں گا اس سے کہ عدالت میں کون سا قانون نافذ ہونا چاہیے۔ کیا یہاں وید اور اسکند پران نافذ ہوگا۔‘‘ راجیو دھون نے ہندو فریق کے وکلاء کے ذریعہ ’پریکرما‘ کا تذکرہ کیے جانے کی بات بھی عدالت کے سامنے رکھی اور کہا کہ ’’پریکرما عبادت کی ایک شکل ہے، یہ کوئی ثبوت نہیں ہے۔‘‘
What is the law that Your Lordships has inherited?
The law we follow is not Vedic law. Your Lordships' legal system starts in 1858, Rajeev Dhavan.
— Bar & Bench (@barandbench) September 2, 2019
راجیو دھون نے ہندو فریق کے وکلاء کے ذریعہ حملوں تاریخی حملوں کی بات رکھے جانے سے متعلق اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’وہ اِس حملے اور اُس حملے کی بات کرتے ہیں۔ میں ان سب میں نہیں جانا چاہتا۔ کیا آرین نے حملہ کیا تھا۔‘‘ انھوں نے کہا کہ کسی نے بھی کیس سے جڑے ضروری ثبوت اور دلائل پیش نہیں کیے سوائے رنجیت کمار کے۔
"They spoke about this invasion and that invasion.
I dont want to go into that. Was there an Aryan invasion?", says Dhavan discarding the invasion arguments.
— Bar & Bench (@barandbench) September 2, 2019
قابل ذکر ہے کہ آج راجیو دھون کے ذریعہ اپنی بات عدالت کے سامنے رکھنے سے قبل سینئر وکیل کپل سبل نے سنی وقف بورڈ کے وکیل (راجیو دھون) کو ملی دھمکی بھرے خط کا تذکرہ کیا۔ انھوں نے اسے عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے معاملے کی جلد سماعت کا مطالبہ کیا۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اس معاملے کی سماعت کل (3 ستمبر) کریں گے۔
#RamMandir – #BabriMasjid: Sr. Adv. Kapil Sibal mentions application for contempt filed by Sr. Adv Rajeev Dhavan on the threat received by Dhavan for appearing for Muslim party.
CJI Ranjan Gogoi agrees to list it tomorrow.
— Bar & Bench (@barandbench) September 2, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
