نئی دہلی:23 نومبر (ای میل) پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی مرکزی سیکریٹریٹ کے کالیکٹ میں منعقدہ اجلاس میں سنگھ پریوار کے لیڈران کے خلاف قانونی اقدام کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جو بابری مسجد معاملے کے نام پر فرقہ وارانہ منافرت پیدا کر رہے ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے رام مندر کی تعمیر کی دھمکیوں سے عدلیہ کی بالادستی کو چیلنج کر رہے ہیں۔اجلاس میں اس جانب اشارہ کیا گیا کہ آر ایس ایس، وی ایچ پی، بی جے پی اور دوسرے لیڈران کے بابری مسجد معاملے سے متعلق بیانات اور اقدامات کھلے عام جمہوری نظام اور عدلیہ کی بالادستی کو چیلنج کر رہے ہیں۔ بجرنگ دل نے حال ہی میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ پچیس ہزار رضاکاروں کو بھرتی کرکے انہیں ہتھیار کی ٹریننگ دے گا جو چھوٹے سے نوٹس پر رام مندر کی تعمیر کریں گے۔ اسی طرح اس معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے، آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے رام مندر کی تعمیر کے لیے ایک آرڈنینس پاس کرنے کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی صدر امت شاہ نے عدالتوں سے ایسے فیصلے صادر کرنے کے لیے کہا جن پر عمل ہو سکے۔یہ تمام بیانات اور دعوے مجرمانہ رویے کا پتہ دیتے ہیں، جنہیںایک آزاد عدلیہ کے ساتھ چلنے والے جمہوری نظام میں قطعی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ پاپولر فرنٹ اس سے پہلے بھی سپریم کورٹ سے اس معاملے میں فوری مداخلت کرکے سنگھ پریوار کو ایودھیا میں شہید بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کے نام پر عدالتی نظام کی توہین سے باز رکھنے کی اپیل کر چکی ہے۔ آئندہ لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر، بی جے پی کے لیڈر جان بوجھ کر اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں، جو کہ نہ صرف مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کی ایک کوشش ہے بلکہ ملک میں انصاف کے سب سے بڑے ادارے سپریم کورٹ کے مرتبے کو بھی کمزور کرنے والا قدم ہے۔ یہ لوگ عوام اور میڈیا کو ڈرا دھمکا کر اور ان پر دباﺅ بنا کر عدالت کے حتمی فیصلے کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ سیکولر طاقتوں اور اپوزیشن پارٹیوں نے ان اقدامات کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہے۔ ایسے حالات میں اگر مناسب اور مو¿ثر طریقے سے ان کی مخالفت نہیں کی گئی تو یہ ہمارے جمہوری ملک کے لیے بہت بڑا خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس لیے تنظیم نے ایسے مجرمانہ بیانات اور اقدامات میں ملوث لوگوں کے خلاف، جو کہ فرقہ وارانہ منافرت کا بازار گرم کر نے کے ساتھ ساتھ عدلیہ اور دستور کے مرتبے پر سوال کھڑے کر رہے ہیں، قانونی اقدام کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیئرمین ای ابوبکر نے اجلاس کی صدارت کی ، جس میں ایم محمد علی جناح، او ایم اے سلام، عبدالواحد سیٹھ اور ای ایم عبدالرحمن شریک رہے۔