رام مندر تعمیر کے لیے سبھی مل کر کام کریں: موہن بھاگوت
آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رام مندر تعمیر کے لیے راستہ ہموار ہو گیا ہے اور اب عظیم الشان رام مندر بنانے کے لیے تیاریاں کی جائیں گی۔ انھوں نے سبھی سے گزارش کی ہے کہ وہ اس کام میں تعاون کریں اور کسی بھی طرح سے ملک میں امن و امان کی فضا کو خراب کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ کسی کی جیت یا ہار نہیں ہے۔
آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے ایودھیا پر فیصلہ کا کیا استقبال
ایودھیا اراضی معاملہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کا آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے استقبال کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کیس دہائیوں سے چلا آ رہا تھا جو آخر میں صحیح نتیجہ تک پہنچا۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس فیصلے کو کسی کی جیت یا کسی کی ہار کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ہم ان سبھی کے شکرگزار ہیں جنھوں نے امن و امان اور خیرسگالی کی فضا ملک میں قائم رکھنے کے لیے کوششیں کیں۔
Mohan Bhagwat,RSS Chief: We welcome this decision of Supreme Court. This case was going on for decades and it has reached the right conclusion. This should not be seen as a win or loss.We also welcome everyone's efforts to maintain peace and harmony in society. #Ayodhyajudgement pic.twitter.com/DtNnliaKEA
— ANI (@ANI) November 9, 2019
سپریم کورٹ میں فیصلہ سنائے جانے کے دوران لگا ’جے شری رام‘ کا نعرہ
نئی دہلی: اجودھیا اراضی کے تنازعہ کے معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہی عدالت کے احاطے میں موجود رام مندر کے حامیوں میں جوش و خروش کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے ’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگاکرکے خوشی کا اظہار کیا۔ عدالت نے متنازعہ اراضی پر رام مندر کی تعمیر اور مسجد کی تعمیر کے لئے پانچ ایکڑ اراضی الگ سے مختص کرنے کا حکم دیا۔ اس کی وجہ سے یہاں موجود مندر کے حامیوں میں جوش و خروش کی لہر دوڑ گئی۔ سوامی دھرم داس اور سوامی چکرپانی کے حامی ’ایک ہی نعرہ ایک ہی نام، جے شری رام، جئے شری رام‘ کے نعرے لگاتے ہوئے جلوس کی شکل میں چل کر لان تک آئے۔ وہ دیر تک نعرے لگاتے رہے۔ عدالت کے لان میں ’شنکھ ناد‘ کیا گیا۔ بہت سے وکلاء ’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے بھی دیکھے گئے تھے۔
(یو این آئی)
امید کرتا ہوں اب کسی دوسری مسجد کو ہاتھ نہیں لگایا جائے گا: اقبال انصاری
بابری مسجد کے ایک اہم پیروکار اقبال انصاری نے ایودھیا معاملہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس فیصلہ سے خوشی ہے لیکن ساتھ ہی یہ امید کرتا ہوں کہ اب کسی دوسری مسجد کو ہاتھ نہیں لگایا جائے گا۔
ہمیں فیصلہ کا احترام کرنا چاہیے، لوگ کسی طرح کا مظاہرہ نہ کریں: آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد پریس کانفرنس کیا۔ اس پریس کانفرنس میں بورڈ کی طرف سے مقدمہ لڑنے والے معروف وکیل ظفریاب جیلانی نے کہا کہ ہم فیصلے کا احترام کرتے ہیں لیکن یہ اطمینان بخش نہیں ہے۔ اس بیان کے ساتھ ہی انھوں نے عوام سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ کہیں بھی کسی طرح کا احتجاجی مظاہرہ یا توڑ پھوڑ نہ کریں۔ سپریم کورٹ نے جو بھی فیصلہ سنایا ہے اس کا احترام کریں۔
Zafaryab Jilani, All India Muslim Personal Law Board: Respect the verdict but the judgement is not satisfactory. There should be no demonstration of any kind anywhere on it. #AyodhyaJudgment pic.twitter.com/g956DuJ5sB
— ANI (@ANI) November 9, 2019
سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد مسلم فریق کا پریس کانفرنس
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہہ دیا ہے کہ متنازعہ زمین پر مندر کی تعمیر ہوگی اور اس کے لیے ہدایات بھی مرکزی حکومت کو جاری کر دیے گئے ہیں۔ مسلم فریق کو 5 ایکڑ زمین کسی دوسری جگہ پر دینے کا حکم بھی صادر کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلہ کے بعد مسلم فریق کے ذریعہ پریس کانفرنس کیا جا رہا ہے۔ پریس کانفرنس مسلم پرسنل لاء بورڈ کر رہی ہے جس میں وکیل ظفریاب جیلانی بھی موجود ہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں، لیکن مطمئن نہیں: ظفریاب جیلانی
سنی وقف بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے ایودھیا تنازعہ سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں فیصلے کا احترام کرتا ہوں، لیکن مطمئن نہیں ہوں۔ ہم دیکھیں گے کہ اس معاملے میں کیا کچھ کیا جا سکتا ہے۔‘‘
Zafaryab Jilani, Sunni Waqf Board Lawyer: We respect the judgement but we are not satisfied, we will decide further course of action. #AyodhyaJudgment pic.twitter.com/5TCpC0QXl6
— ANI (@ANI) November 9, 2019
ایودھیا کی متنازعہ اراضی ہندوؤں کو دیے جانے کا فیصلہ
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ایودھیا کی متنازعہ زمین مسلم فریق کو نہیں دے کر ہندوؤں کو دی جائے گی اور اس کے لیے ایک ٹرسٹ کا قیام کیا جائے۔ عدالت نے حکومت سے کہا ہے کہ فی الحال اس متنازعہ زمین کو حکومت اپنے قبضے میں لے گی اور دی گئی ہدایت کے مطابق آگے کی کارروائی کرے گی۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ تین سے چار مہینے میں ایک ٹرسٹ بنائیں جس کے حوالے متنازعہ زمین کریں تاکہ مندر کی تعمیر ہو۔
Supreme Court orders that Central Govt within 3-4 months formulate scheme for setting up of trust and hand over the disputed site to it for construction of temple at the site and a suitable alternative plot of land measuring 5 acres at Ayodhya will be given to Sunni Wakf Board. pic.twitter.com/VgkYe1oUuN
— ANI (@ANI) November 9, 2019
مسلم فریق کو متبادل جگہ دینے سنایا گیا فیصلہ
سپریم کورٹ نے اپنے انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ میں کہا کہ مسلم فریق یعنی سنی وقف بورڈ کو متبادل جگہ فراہم کی جائے۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی نے کہا کہ سنی وقف بورڈ کو پانچ ایکڑ زمین الاٹ کیا جائے گا اور اس کے لیے مرکزی حکومت کو ہدایت دی گئی ہے۔ متنازعہ زمین مرکزی حکومت کے حوالے کیے جانے کی بات بھی فیصلے میں کہی گئی ہے اور اس سے متعلق کچھ احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
رام چبوترہ باہری احاطے میں بنا جہاں پوجا کیا جانے لگا
عدالت نے کہا ہے کہ رام چبوترہ باہری حصے میں بنایا گیا اور وہی ہندوؤں کی پوجا کا مرکز بنا۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ مسلم قبضے کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ مسلمانوں کے اختیارات ہندوؤں سے زیادہ تھے اس بات کے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔ مسلمانوں نے مسجد چھوڑ دی تھی اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے۔
بابری مسجد میں نماز پڑھے جانے کے ثبوت موجود: سپریم کورٹ
چیف جسٹس رنجن گگوئی نے اپنا فیصلہ پڑھتے ہوئے یہ بات بھی واضح کر دیا ہے کہ بابری مسجد میں نماز پڑھے جانے کے ثبوت موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہندوؤں کی رام کے تئیں عقیدت اور ان کے یقین پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا لیکن عقیدت اور یقین کا معاملہ نہیں بلکہ زمین کے مالکانہ حق کا معاملہ ہے۔
خالی جگہ پر تعمیر نہیں ہوئی تھی بابری مسجد: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کی تعمیر خالی جگہ پر نہیں ہوئی تھی اور ایسا اے ایس آئی کی رپورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اے ایس آئی کی رپورٹ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ساتھ ہی فیصلہ پڑھتے ہوئے رنجن گگوئی نے کہا کہ یہ کسی بھی طرح صاف نہیں ہے کہ مندر توڑ کر مسجد تعمیر کی گئی۔
سپریم کورٹ نے نرموہی اکھاڑے کے دعوے کو خارج کر دیا
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گگوئی نے واضح لفظوں میں کہا کہ بابری مسجد بابر کے دور میں بنا تھا۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے نرموہی اکھاڑے کے دعوے کو بھی خارج کر دیا ہے۔ نرموہی اکھاڑے کے دعوے کو لمیٹیشن سے باہر کر دیا گیا ہے۔
شیعہ وقف بورڈ کی عرضی خارج
پانچ رکنی بنچ میں شامل سبھی ججوں نے آپسی اتفاق سے شیعہ وقف بورد کی عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ اپنا فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس رنجن گگوئی نے کہا کہ یہ فیصلہ عقیدہ یا مذہبی سوچ کو سامنے رکھ کر نہیں لیا گیا ہے۔
ایودھیا تنازعہ پر فیصلہ سے پہلے اتر پردیش-نیپال سرحد بند
ایودھیا تنازعہ پر فیصلہ سے پہلے اتر پردیش اور نیپال سرحد کو بند کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ اعلیٰ افسران کی میٹنگ کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا۔
The #UttarPradesh–#Nepal border has been sealed following a meeting of top officials with Chief Minister #YogiAdityanath around Nov 8 midnight.
Photo: IANS pic.twitter.com/hd3urefiKX
— IANS Tweets (@ians_india) November 9, 2019
فیصلہ سے قبل سپریم کورٹ میں لگی بھیڑ، سیکورٹی کے سخت انتظامات
فیصلہ آنے میں بس کچھ ہی منٹ باقی رہ گئے ہیں اور ملک کی مختلف ریاستوں میں تو سیکورٹی سخت ہے ہی، سپریم کورٹ میں بھی سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی اور پانچ رکنی بنچ میں شامل دیگر چار جج بھی پہنچ چکے ہیں۔ سپریم کورٹ میں روم نمبر 1 کے سامنے صحافیوں اور فوٹو گرافروں کی زبردست بھیڑ لگی ہوئی ہے۔
Delhi: All five Supreme Court judges who will deliver the verdict in Ayodhya land case have reached the Supreme Court https://t.co/QW8DcTcMH9
— ANI (@ANI) November 9, 2019
#AyodhyaVerdict: Security personnel being briefed at Supreme Court premises. Five-judge bench of the Supreme Court to deliver judgement in Ayodhya land case at 1030 am today. pic.twitter.com/o4dmNz1XqY
— ANI (@ANI) November 9, 2019
کرناٹک کے ہبلی اور دھارواڑ میں دفعہ 144 نافذ، سیکورٹی سخت
ایودھیا تنازعہ پر فیصلہ صادر ہونے سے پہلے کچھ ریاستوں کے حساس اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کیا گیا ہے اور تازہ ترین خبروں کے مطابق کرناٹک کے دو شہروں ہبلی اور دھارواڑ میں بھی دفعہ 144 نافذ ہو گیا ہے۔ ان علاقوں میں اب چار شخص سے زیادہ لوگ ایک جگہ کھڑے ہو کر بات چیت نہیں کر سکیں گے۔
Karnataka: Section 144 of CrPC (prohibits assembly of more than 4 people in an area) imposed and sale of liquor banned in the twin cities of Hubbli-Dharwad. #AyodhyaVerdict
— ANI (@ANI) November 9, 2019
اتر پردیش، بہار، دہلی سمیت ملک کی کئی ریاستوں میں سیکورٹی سخت، کئی مقامات پر انٹرنیٹ بند
آج سپریم کورٹ بابری مسجد اور رام جنم بھومی اراضی تنازعہ پر تاریخی فیصلہ سنانے والا ہے اور اس کے پیش نظر ملک کی مختلف ریاستوں میں سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایک طرف جہاں ایودھیا کو پوری طرح سے چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے، وہیں بہار، راجستھان اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں ڈرون کیمرے سے حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ دہلی اور اتر پردیش کے سبھی اسکولوں و کالجوں میں چھٹی کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔ کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 11 نومبر تک سبھی کلاسز کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
All departments including library will be closed.
— Jamia Millia Islamia (Central University) (@jmiu_official) November 8, 2019
Ayodhya: Security deployed in the area around Ram Janmabhoomi police station. Supreme Court will pronounce #AyodhyaVerdict today. pic.twitter.com/d6FsWEjcTh
— ANI UP (@ANINewsUP) November 9, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
