بابری مسجد-رام مندر کیس: سپریم کورٹ نے براہ راست نشریہ کی اجازت دینے سے کیا اِنکار

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بابری مسجد-رام جنم بھومی قضیہ کی سماعت کا لائیو آڈیو ریکارڈنگ کی اجازت دینے سے آج یعنی منگل کو انکار کر دیا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی پانچ ججوں کی آئینی بنچ اس معاملہ کی آج سماعت کر رہی ہے۔ اس بنچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس ایس اے بوب ڈے، جسٹس ڈی وائی. چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس اےنذیر شامل ہیں۔

عدالت میں سماعت کے دوران اس معاملہ کا ایک فریق نرموہی اکھاڑا نے بتایا کہ متنازع مقام پر اس کا قبضہ ہے اور وہ زمانے سے اس کا انتظام اور رام للّا کی پوجا کر رہا ہے۔ نرموہی اکھاڑا کے وکیل سشیل کمار جین نے عدالت کو بتایا کہ رام کی جائے پیدائش پر ہمیشہ سے اس کا قبضہ رہا ہے۔ وہ لوگ یہاں پربھگوان رام کی عبادت اور جنم استھان کا انتظام کرتے ہیں، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے جب سشیل کمار جین سے کہا کہ وہ اپنے دعوے کو ثابت کریں، تو انہوں نے دلیل دی کہ یہ معاملہ رام جنم بھومی کے اندرونی حصے تک محدود ہے۔


Also Read: ایودھیا تنازعہ کی براہ راست نشریات کے لئے سُپریم کورٹ میں عرضی داخل

قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کے سابق جسٹس ایف ایم آئی خلیف اللہ کی قیادت میں قائم تین ارکان کی کمیٹی کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد عدالت نے دو اگست کو آج یعنی چھ اگست سے لگاتار سماعت کرنے کا فیصلہ لیا تھا۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading