بابری مسجد- رام جنم بھومی معاملہ: ہندو فریق ہی آئے آمنے سامنے ؛سپریم کورٹ برہم

نئی دہلی۔27۔اگست۔ بابری مسجد- رام جنم بھومی معاملے میں چل رہی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ زمین کےمالکانہ حق کولےکرہندو فریق نرموہی اکھاڑہ، اوررام للا وراجمان کی عرضی کی غیرضروری طورپرمخالفت کررہا ہے۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے قیادت والی پانچ رکنی آئینی بینچ نے نرموہی اکھاڑہ کے ذریعہ یہ کہےجانے کی مذمت کی کہ ‘شبیت’ (عبادت گزار) ہونےکےناطے صرف اس کی عرضی ہی غورکرنےکی اہل ہے اورانوچردیوکی نندن اگروال کےذریعہ دیوتا ‘رام للا وراجمان’ کی طرف سے دائرعرضی پرغورنہیں کیا جانا چاہئے۔بینچ نےدہائیوں پرانےاورسیاسی طورپرحساس معاملےمیں 12 ویں دن دلیلیں سنتے ہوئے کہا کہ "آپ کے (نرموہی اکھاڑہ) کے بحث اوراس کی نمبر-1 (رام للا) کے ذریعہ دائر مقدمہ کے درمیان کوئی ثنویت نہیں ہے۔ اگرمقدمہ (دیوتا اوردیگر) کے مقدمہ کو منظوری دی جاتی ہے تو ‘شبیت’ کی شکل میں آپ کا حق برقراررہتا ہے’۔ عدالت کی آئینی بینچ میں جسٹس ایس اے بوبڑے، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اورجسٹس ایس عبدالنظیرشامل ہیں

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading