علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کی جانب سے طلبہ کو لکھے گئے آخری خط کو طلبہ نے سرے سے خارج کرتے ہوئے کہا کہ وائس چانسلر، رجسٹرار اور پراکٹر کے استعفی دینے تک پرامن طریقے سے جمہوری انداز میں مظاہرہ جاری رہے گا۔

اے ایم یو طلبہ یونین لیڈر سلمان امتیاز نے وائس چانسلر کی جانب سے طلبہ کے نام خط میں دھمکی آمیز لہجہ استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اے ایم یو یونین وائس چانسلر کی جانب سے یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت کے لئے بند کرنے کی دھمکی کی مذمت اوروائس چانسلر کی جانب سے طلبہ برادری پر لگائے الزاما ت کو خارج کرتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ کی جانب سے مسلسل کلاسز کے بائیکاٹ اور امتحان میں شرکت نہ کرنے ، اپنے مطالبات پر بضد رہنے و کئی مذاکرات کے ناکام ہوجانے کے بعد یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت کے لئے بند کرنے پر غور کررہی ہے۔وائس چانسلر کے 29 تاریخ کے خط میں بھی اس جانب اشارہ کیا تھا۔
یونین لیڈرسلمان امتیاز نے یواین آئی سے ٹیلیفونک گفتگو میں بتایا کہ وائس چانسلر طارق منصور کا خط دھمکی بھرا ہے۔ ہم طلبہ ان کے خط کو خارج کرتے ہیں۔وہ طلبہ میں ڈر اور خوف کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم اس سے ڈرنے والے نہیں۔ وہ یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت کے لئے بند کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں جو ان کی ناکامیوں کو ثابت کرتا ہے۔
سلمان نے بتایا کہ ہم اس بات کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یونیورسٹی کے طلبہ کسی بھی باہری طاقت کے اشارے پر احتجاج کررہے ہیں اور نہ ہی انہیں کوئی غلط فہمی ہے۔یہ طلبہ برادری ہے جو یونیورسٹی انتظامیہ بشمول وائس چانسلر طارق منصور کی غیر فعالی کے خلاف پرامن احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں۔
سلمان کے مطابق طلبہ نے کبھی بھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا اور نہ ہی یونیورسٹی کو بند کرنے پر مجبور کیا یہ وی سی کی ناکامی ہے جنہوں نے 15 دسمبر کو یونیورسٹی کو بند کرنے کا حکم دیا اور مرحلہ وار طریقے سے 27 جنوری تک یونیورسٹی کو دوبارہ کھولا۔یہ یونیورسٹی انتظامیہ ہی ہے جس نے 47 دنوں تک طلبہ کے تعلیمی سرگرمی کو معطل کیا ہے اور یہی اس کے ذمہ دار ہیں۔
سلمان امتیاز نے گذشتہ 15 دسمبر کو یونیورسٹی کیمپس میں پولیس کی جانب سے طلبہ کے خلاف کی گئی بربریت کے لئے براہ راست طور سے وائس چانسلر،رجسٹرار کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے ساتھ ہوئی اس بربریت سے طلبہ سخت دلبرداشتہ ہیں ۔ان کے مطابق ہم تعلیمی سرگرمی،امتحان کے خلاف نہیں لیکن طارق منصور کی قیادت میں یونیورسٹی میں طلبہ اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
یونین لیڈر نے بتایا کہ کیمپس کے اندر طلبہ پرامن طریقے سے ایک جمہوری انداز میں اپنی آواز کو بلند کررہے ہیں۔یہاں نظم ونسق کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔طلبہ کا یہ مظاہرہ وی سی ،رجسٹرار اور پراکٹر کے استعفی دینے کا جاری رہے گا۔انہوں نے گذشتہ 15 دسمبر کو یونیورسٹی کیمپس میں پیش آئے حادثے کو ’تاریک رات‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ28000 طلبہ کے مستقبل کے مقابلے میں ایک شخص کی کرسی اہم نہیں ہے۔وائس چانسلر اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفی دے دینا چاہئے۔
قابل ذکر ہے کہ یونیورسٹی وائس چانسلر نے کل طلبہ کے نام اپنے خط میں طلبہ سے فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے کلاسز اور امتحان کے بائیکاٹ کو ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔وائس چانسلر نے طلبہ کے مفاد کے امور پر ان سے گفت و شنید کے اپنے عزم کا اظہار کیا تھا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو