ایشوریہ رائے کی واپسی، ایک عظیم شہنشاہ کی زندگی پر مبنی فلم جو نئے ریکارڈ بنا رہی ہے

نامور انڈین ہدایتکار منی رتنم کی نئی فلم ’پونین سیلون:1‘ تمل زبان کی تاریخی پس منظر پر بنی ایک فلم ہے جس نے باکس آفس پر دھوم مچا رکھی ہے۔ صحافی سدھا جی تلک بتا رہی ہیں کہ آخر ایک ہٹ فلم کا فارمولہ کیا ہے۔

’پونین سیلون:1‘ کو انڈیا کے ایک عظیم شہنشاہ کی زندگی پر مبنی تمل زبان میں لکھا جانے والا سب سے شاندار ناول سمجھا جاتا ہے۔

پونین سیلون وہ نام تھا جو تمل سرزمین کی عوام نے اپنے شہنشاہ ’راجا راجا چولا‘ کو دیا تھا۔ اُن کا تعلق چولا خاندان سے تھا جس نے 9ویں صدی سے 13ویں صدی تک تمل سرزمین پر راج کیا۔

راجا راجا چولا خاندان کے پہلے شہنشاہ نہیں تھے لیکن انھوں نے اپنی سلطنت کو عروج پر پہنچایا تھا۔ انھوں نے ایک چھوٹی سی بادشاہت کو انڈیا کی ایک بے حد اہم سلطنت میں تبدیل کر دیا۔ اُن کا سیاسی اثر و رسوخ سری لنکا، مالدیپ کے علاوہ سوماترا، تھائی لینڈ اور ملیشیا کے بعض حصوں تک پھیلا تھا۔ یہاں تک کہ چین کے ساتھ بھی اُن کے سفارتی رشتے تھے۔

تاریخ داں کھلنانی لکھتے ہیں ’راجا راجا چولا نے وہ کر دکھایا جو کوئی بھی انڈین شہنشاہ نہیں کر پایا تھا۔ انھوں نے تجارتی کشتیوں کی کپتانی کی، لکڑی کی تجارت کی اور بحری مہمات شروع کیں جس کے ذریعے وہ دور دور سے اپنا خزانہ واپس لے کر آئے۔‘

سات کروڑ ڈالر کے بجٹ سے بنی یہ فلم پونین سیلون کے شاہی گدی سنبھالنے کی کہانی ہے۔ جب اُن کے والد بیماری کی وجہ سے شاہی ذمہ داریاں چھوڑ دیتے ہیں اور پونین سیلون کو یہ ذمہ داری سنبھالنی پڑتی ہے۔

یہ وہ وقت تھا جب شاہی محل سازشوں میں الجھا تھا اور حکومت کا تختہ پلٹے جانے کا خطرہ تھا۔

شاہی خاندان کے حریف ممبران نے شاہی تختہ پلٹنے کی سازش کی اور اُن کے دشمن راجاؤں نے پونین سیلون کی قتل کی سازش کی۔ اور اس منصوبے کی رہنمائی ایک طاقتور اور شاہی خاتون نندنی کر رہی تھیں (فلم میں یہ کردار اداکارہ ایشوریا رائے ادا کر رہی ہیں)۔ نندنی اپنے سابق عاشق اور ولی عہد پونین سیلون کو تباہ کرنا چاہتی ہیں (یہ کردار مشہور ادکار وکرم نے ادا کیا ہے)۔

شہزادی کنڈاوی اُن کی حریف ہیں جو نندنی کو اُن کی سازش میں ناکام کرنا چاہتی ہیں۔ وہ اپنے بھائیوں کا تحفظ کرنا چاہتی ہیں اور ان کی خواہش تھی کہ اصل حقدار ہی شاہی گدی پر بیھٹے۔

پونین سیلون:1 فلم چولا شہنشاہت کے عروج کی ایک افسانوی دستاویز ہے۔ یہ وہ شہنشاہت ہے جس کے ثقافتی کردار کے اثرات آج کے ماڈرن تمل ناڈو میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

پونین سیلون کی کہانی کو ادیب اور صحافی کلکی کرشنا مورتھی نے سنہ 1955 میں تمل میگزین ’کلکی‘ میں سلسلہ وار طریقے سے شائع کیا۔ 2000 صفحات پر مشتمل اس تاریخی ادب کو مختلف ایڈیشنز میں شائع کیا گیا تھا اور اس کا انگریزی میں بھی ترجمہ کیا گیا ہے۔

بچوں کے لیے مزاحیہ ناولوں اور بعض تھیٹر پروڈکشنز کی وجہ سے یہ تاریخی افسانہ آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔

تمل ناڈو میں ہر نسل کے لوگ اس ناول کو دیوانگی کی حد تک پسند کرتے ہیں۔ اب یہ دیکھنا ہو گا کہ 21ویں صدی کی وہ صارفین جو ’گیمز آف تھرونز‘ اور ’باہو بلی‘ جیسی فلموں کی دیوانی ہے اور اس 10ویں صدی کی کہانی کو بھی اتنا ہی پسند کرتی ہے یا نہیں۔

فلم کے ہدایتکار منی رتنم نے ایک انٹریو میں کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ جب لوگ پونین سیلون:1 دیکھیں تو وہ بس ’فلم میں کھو جائیں۔‘

فلم کے ڈائیلاگ قدیم تمل زبان میں ہیں لیکن ان کو اس طرح سے لکھا گیا کہ آج کی نوجوان نسل کو بھی سمجھ آ جائیں۔

فلم کا میوزک اے آر رحمان نے دیا ہے۔

ناقدین نے منی رتنم کی اس بات کی بے حد ستائش کی ہے کہ انھوں نے پانچ حصوں پر مشتمل ناول کو دو حصوں کی فلم میں بے حد خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ فلم کا دوسرا حصہ اگلے برس ریلیز ہو گا۔

،تصویر کا کیپشن

منی رتنم کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسی فلم بنانا چاہتے تھے جسے دیکھ کر لوگ اس کی کہانی میں کھو جائیں

گذشتہ ہفتے کو اس فلم کی بے حد شاندار ریلیز ہوئی۔ جنوبی انڈیا کے شہر چنئی میں سنیما گھروں میں ہزاروں کی تعداد میں شائقین فلم دیکھنے پہنچے۔ لوگوں کی دلچسپی اور ریکارڈ ٹکٹوں کی فروخت کے بعد آدھی رات کے بعد فلم کے خصوصی شو کا انعقاد کیا گیا۔

فلم کو دیکھنے کے لیے دور دور کے دیہاتوں سے لوگ شہروں کا رُخ کر رہے ہیں۔ چنئی کے سینما گھروں کے باہر لوگ فلم کے گانوں پر رقص کر رہے ہیں اور جشن منا رہے ہیں۔

جن لوگوں نے یہ فلم دیکھی ہے اُن کا کہنا ہے کہ فلم ایک ایسے بہت ہی دلچسپ اور تجسس سے بھرے موڑ پر ختم ہوتی ہے، جس نے فلم کے دوسرے حصے کا انتظار اور مشکل کر دیا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading