ایران میں انٹرنیٹ کی بندش اور سخت حکومتی پابندیوں کے باوجود ملک کے مختلف شہروں سے جاری عوامی مظاہروں کا سلسلہ آج 13ویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ ایران سے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مختلف شہروں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سرکاری اہلکار فائرنگ کر رہے ہیں جبکہ مظاہرین رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے بلند کرتے اور ایران کا سرکاری پرچم مختلف مقامات سے اُتارتے نظر آئے۔
ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ بی بی سی فارسی نے 22 افراد کی ہلاکت اور شناخت کی تصدیق کی ہے۔
ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی نے ملک میں جاری مظاہروں پر اپنے پہلے ردعمل میں مظاہرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انٹرنیٹ کی بندش، مظاہرین پر تشدد اور اُن کے آواز کو دبانے پر شدید تنقید کی ہے۔
امریکہ میں فیڈرل ایجنٹس کی جانب سے فائرنگ کے ایک اور واقعے میں دو افراد زخمی
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے تاہم اس کے خاتمے تک چین سے نہيں بیٹھیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسے بل کی حمایت کی ہے جو روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرف (محصولات) عائد کر سکتا ہے۔