MRCC Urdu News 9 January 26

اگر بنگلہ دیشیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے تو کیا مودی سرکار سو رہی ہے؟: سچن ساونت

گزشتہ تین برسوں میں ممبئی میں کتنے بنگلہ دیشی پکڑے گئے؟ کتنے واپس بھیجے گئے؟ مرکزی وزارتِ داخلہ کے پاس کوئی معلومات نہیں

آر ٹی آئی جواب سے بی جے پی کی سازش بے نقاب، ہندو مسلم تنازع بھڑکا کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی شرمناک سیاست

ممبئی: بھارتیہ جنتا پارٹی ہر انتخاب کے موقع پر بنگلہ دیشی اور روہنگیا شہریوں کا معاملہ اچھال کر مذہبی منافرت پیدا کرنے کی قابلِ مذمت سیاست کرتی رہی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن انتخابات کے آغاز کے ساتھ ہی بی جے پی کے لیڈران ایک بار پھر ہندو مسلم تنازع کو ہوا دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اسی تناظر میں گزشتہ تین برسوں کے دوران ممبئی میں بنگلہ دیشی شہریوں کی گرفتاری اور ملک بدری سے متعلق معلومات پر حقِ معلومات کے تحت حاصل ہونے والے جواب نے بی جے پی کے بیانیے کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔

آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری اور ممبئی کانگریس کے چیف ترجمان سچن ساونت نے چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر ممبئی بی جے پی کے صدر امیت ساٹم، آشیِش شیلار، منگل پربھات لوڈھا اور دیگر بی جے پی لیڈروں میں ہمت ہے تو وہ گزشتہ تین برسوں میں ممبئی سے پکڑے گئے بنگلہ دیشی شہریوں کی سرکاری تفصیلات عوام کے سامنے رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی محض خوف اور نفرت کا ماحول بنا کر ووٹ بٹورنے کی سیاست کر رہی ہے۔

راجیو گاندھی بھون، ممبئی میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سچن ساونت نے کہا کہ حقِ معلومات کے تحت مرکزی وزارتِ داخلہ سے یہ پوچھا گیا تھا کہ گزشتہ تین برسوں میں ممبئی میں کتنے بنگلہ دیشی اور روہنگیا شہری پکڑے گئے، ممبئی پولیس نے کتنے معاملات ایف آر آر او کو سونپے اور کتنے افراد کو بنگلہ دیش واپس بھیجا گیا، نیز ماہانہ تفصیلات فراہم کی جائیں۔ اس پر مرکزی وزارتِ داخلہ کی جانب سے تحریری جواب آیا کہ’اس سلسلے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں‘۔ سچن ساونت نے کہا کہ جس وزارت پر قومی سلامتی اور سرحدی نگرانی کی بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اگر وہی لاعلمی ظاہر کرے تو عوام کو بی جے پی کی سیاست کی حقیقت سمجھ لینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لیڈران بنگلہ دیشیوں کے نام پر کانگریس اور اقلیتی قیادت کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ مالونی میں بنگلہ دیشی روہنگیا کے نام پر ہندوؤں اور دلتوں کے گھروں کو بھی گرایا گیا، مگر اب جب سرکاری معلومات مانگی گئیں تو مرکزی وزارتِ داخلہ کے پاس کوئی ڈیٹا موجود نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر واقعی ملک میں بنگلہ دیشی شہریوں کی تعداد بڑھ رہی ہے تو پھر گزشتہ بارہ برسوں سے اقتدار میں بی جے پی حکومت کس بات میں مصروف رہی؟ کیا ملک کی سرحدوں کی نگرانی میں نریندر مودی اور امیت شاہ کی قیادت ناکام ثابت ہوئی ہے؟ کیا ڈبل انجن سرکار اس دوران سو رہی تھی؟

سچن ساونت نے ممبئی میں مسلم آبادی بڑھنے کے بی جے پی کے دعوے کو بھی جھوٹا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امیت ساتم نے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا، مگر معروف فیکٹ چیک پلیٹ فارم کی جانچ میں یہ معلومات غلط ثابت ہوئیں۔ بوم لائیو کی رپورٹ کے مطابق ممبئی اور اس سے قبل دہلی میں جے این یو کے نام سے گردش کرنے والی رپورٹس کی زبان تقریباً ایک جیسی ہے، انہیں تیار کرنے والے افراد بھی مشترک رہے ہیں اور ان میں شامل افراد کسی بھی طرح کے ماہر نہیں تھے، بلکہ زبان اشتعال انگیز تھی۔ انہوں نے کہا کہ انتخاب قریب آتے ہی بی جے پی جان بوجھ کر جھوٹی معلومات پھیلا کر ممبئی اور مہاراشٹر کے عوام کو گمراہ کرنا چاہتی ہے، مگر بوم لائیو نے اس ایجنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سچن ساونت نے یقین ظاہر کیا کہ ممبئی کے باشعور عوام بی جے پی کی جھوٹ پر مبنی اور نفرت پھیلانے والی سیاست کا شکار نہیں بنیں گے اور انتخابات میں اس کا بھرپور جواب دیں گے۔

کانگریس اتحاد کے امیدوار سریش چندر راج ہنس کو انتخابی مہم میں برتری

کامیابی کی صورت میں وارڈ میں جامع ترقیاتی کاموں کا وعدہ

ممبئی: ممبئی میونسپل کارپوریشن انتخابات کی مہم میں تیزی آ گئی ہے اور کانگریس اتحاد نے واضح برتری حاصل کر لی ہے۔ وارڈ نمبر 26 سے کانگریس، ونچت بہوجن اگھاڑی، راشٹریہ سماج پارٹی اور ریپبلکن پارٹی آف انڈیا (گوئی) کے مشترکہ امیدوار سریش چندر راج ہنس انتخابی مہم میں سبقت لے گئے ہیں۔ وہ گھر گھر جا کر عوام سے براہِ راست رابطہ کر رہے ہیں اور انہیں ووٹروں کی جانب سے حوصلہ افزا ردِعمل مل رہا ہے۔ راج ہنس نے اعتماد ظاہر کیا کہ کانگریسی نظریے کے اس وارڈ سے کانگریس اتحاد کی جیت یقینی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وارڈ نمبر 26 تاریخی طور پر کانگریس کے نظریے کا حامل رہا ہے اور یہاں جو بھی نمایاں ترقیاتی کام ہوئے ہیں وہ کانگریس کے ادوار میں انجام پائے۔ خاص طور پر سابق وزیر اعلیٰ ولاس راؤ دیشمکھ کی قیادت والی کانگریس حکومت کے دور میں اس علاقے کے عام شہریوں کو بڑے پیمانے پر رہائشی اسکیموں کا فائدہ ملا۔ ماضی کے ایک انتخابی استثنا کے سوا، اس وارڈ کے عوام نے ہمیشہ کانگریس امیدواروں پر اعتماد کیا ہے۔ سریش چندر راج ہنس نے الزام لگایا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں بی جے پی کے نمائندے نے علاقے میں کوئی ٹھوس کام نہیں کیا، جس کے باعث مقامی عوام میں شدید ناراضی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر خدمت کرنے والے امیدوار کو ہی منتخب کرتے ہیں اور اسی یقین کے ساتھ وہ عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ انہیں خدمت کا موقع دیا جائے۔ راج ہنس نے وعدہ کیا کہ کامیابی کی صورت میں وارڈ میں بنیادی سہولتوں، شہری انفراسٹرکچر اور عوامی بہبود سے متعلق کاموں کو ترجیح دی جائے گی۔

انتخابی مہم کے دوران ممبئی کانگریس کی صدر اور رکنِ پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ اور سابق وزیر و رکنِ اسمبلی اسلم شیخ نے بھی علاقے کا دورہ کیا اور عوام سے کانگریس اتحاد کے امیدوار سریش چندر راج ہنس کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔ان لیڈران نے کہا کہ کانگریس اتحاد ہی علاقے کی حقیقی ترقی، شفاف بلدیاتی انتظام اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کی ضمانت دے سکتا ہے۔ کانگریس اتحاد کا کہنا ہے کہ وارڈ نمبر 26 میں عوامی حمایت، زمینی رابطہ اور ماضی کی کارکردگی اس بات کی دلیل ہے کہ ووٹر ایک بار پھر کانگریس کے ترقی پسند اور خدمت پر مبنی ایجنڈے پر اعتماد کریں گے۔

MRCC Urdu News 9 January 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading