ایران کے کلسٹر بم اسرائیل میں کتنی تباہی پھیلا رہے ہیں؟

تلِ ابیب کے قریب واقع شہر رامات گان میں ایک عمارت کی بالائی منزل پر موجود فلیٹ کی کنکریٹ کی چھت ٹوٹی ہوئی ہے، لوہے کے سریے مُڑ چکے ہیں اور ایک بڑا شگاف واضح دکھائی دیتا ہے۔

یہ وہ جگہ ہے جہاں گذشتہ رات ایک ایرانی کلسٹر بم چھت چیرتا ہوا ایک بزرگ جوڑے کے فلیٹ میں داخل ہوا اور اس حملے میں وہ دونوں ہلاک ہو گئے۔

پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ اس فلیٹ کے رہائشی مرد کو چلنے پھرنے میں پریشانی کا سامنا تھا اور اسی لیے وہ الارم بجنے کے بعد محفوظ مقام پر نہیں منتقل ہو سکے۔

یہ اپارٹمنٹ دیکھ کر ہمیں کلسٹر بم سے ہونے والے نقصان کا پتا چلتا ہے۔ اس بم کے چھروں سے دیواروں میں سوراخ ہو چکے ہیں اور فلیٹ کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

سگال عامر نامی ایک پڑوسی کا کہنا ہے کہ جب حملہ کے بعد وہ محفوظ مقام سے باہر آئی تو انھوں نے دیکھا کہ برابر والے فلیٹ کا دروازہ کنڈوں کے سہارے لٹکا ہوا ہے اور وہاں دھواں بھرا ہوا ہے۔

اسرائیلی فضائی دفاعی نظام رہائشی علاقوں کی طرف فائر کیے گئے بیشتر ایرانی میزائلوں کو تباہ کر دیتا ہے اور ملک کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے 70 فیصد میزائل لانچر تباہ کر دیے ہیں۔

ایران اب زیادہ تر ایسے میزائل استعمال کر رہا ہے جن میں کلسٹر بارودی مواد بھرا ہوا ہوتا ہے، یہ وسیع علاقوں تک پھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انھیں روکنا بھی مشکل ہوتا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading