ایرانی رہبرِ اعلیٰ کو قتل کرنا چاہتے تھے لیکن وہ زیرِ زمین بہت گہرائی میں جا چکے تھے: اسرائیلی وزیرِ دفاع

اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے جمعرات کو مختلف انٹرویوز میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ کا قتل بھی 12 روزہ جنگ کے دوران ہمارے اہداف کا حصہ تھا لیکن انڈرگراؤنڈ جانے کے باعث وہ بچ نکلے۔

کاٹز نے اسرائیلی سرکاری ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر خامنہ ای ہماری نظروں میں ہوتے تو ہم انھیں بھی قتل کر چکے ہوتے لیکن وہ بہت گہرائی میں زیرِ زمین جا چکے تھے اور اپنے کمانڈرز سے تمام رابطے منقطع کر چکے تھے جس کے بعد ان پر حملہ ’حقیقت پسندانہ نہیں رہا تھا۔‘کاٹز کا مزید کہنا تھا کہ ’جنگ کے دوران ہم نے انھیں بہت ڈھونڈا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کا ہدف رجیم چینج نہیں بلکہ ایرانی قیات کو غیر مستحکم کرنا تھا اور تنازع کے درمیان دباؤ بڑھانا تھا۔ یاد رہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم جنگ کے دوران ایرانی عوام کو رجیم چینج کے لیے کہتے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے اس 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی فوجی قیادت اور جوہری سائنسدانوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔امریکی میڈیا کے مطابق حالیہ ایران اسرائیل جنگ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کا ایک اسرائیلی منصوبہ یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ کوئی ’اچھا خیال نہیں ہے۔‘ٹرمپ کی جانب سے ایک ٹویٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ خامنہ ای کہاں چھپے ہیں لیکن ہم انھیں ہلاک نہیں کریں گے، فی الحال نہیں۔‘

جب چینل 13 پر کاٹز سے پوچھا گیا کہ اسرائیل نے خامنہ کو ہدف بنانے سے قبل امریکہ سے پوچھا تھا تو انھوں نے جواب دیا کہ ’ہم ان چیزوں میں اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘انھوں نے خامنہ ای کو تجویز دی کہ وہ چھپے رہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’میں انھیں یہ تجویز نہیں دوں گا کہ وہ اب سکون سے رہ سکتے ہیں۔ انھیں حزب اللہ رہنما حسن نصراللہ سے سیکھنا چاہیے۔‘

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading