اہم خَبر: مینک اگروال کے بعد کوہلی نے بھی لگائی سنچری، ہندوستان کا اسکور 356/3

کرکٹ: جنوبی افریقہ کے خلاف مینک اگروال کے بعد کوہلی نے بھی لگائی سنچری

ہندوستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا دوسرا مقابلہ پونے کے ایم سی اے اسٹیڈیم میں کھیلا جا رہا ہے۔ ٹیسٹ کے دوسرے دن لنچ تک ہندوستان نے 3 وکٹ کے نقصان پر 356 رن بنا لیے ہیں اور مینک اگروال کے بعد کپتان وراٹ کوہلی نے بھی اپنی سنچری بنا لی ہے۔ اس وقت وراٹ کوہلی 104 اور اجنکیا رہانے 58 رن بنا کر کھیل رہے ہیں۔


دہلی: اے ٹی ایم کے اندر سابق فوجی کو لوٹنے والی 2 خواتین گرفتار

جنوبی دہلی میں گزشتہ 3 اکتوبر کو ایک اے ٹی ایم کے اندر دو خواتین نے سابق فوجی کو لوٹنے کا واقعہ انجام دیا تھا۔ دہلی پولس کے مطابق ان دونوں ملزم خواتین کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔


76 ہزار کروڑ کا کس کا قرض معاف کر رہی مودی حکومت؟ پرینکا گاندھی کا سوال

اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے 76 ہزار کروڑ کا قرض رائٹ آف کر دیا ہے یعنی ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا ہے۔ اس کی خبر میڈیا میں آنے کے بعد کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پرینکا گاندھی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ معیشت خستہ حال ہے پھر بھی 76 ہزار کروڑ روپے کے قرض کو بی جے پی حکومت کس کے لیے معاف کر رہی ہے۔ پرینکا نے ٹوئٹ کر لکھا ہے کہ ’’کسانوں کو جیل میں ڈالا جا رہا ہے۔ معیشت خستہ حال ہے، لوگوں کو ملازمت سے نکالا جا رہا ہے۔ ممبئی میں پی ایم سی بینک سے جڑے لوگ چیخ رہے ہیں۔ لیکن بی جے پی حکومت کس کے لیے ریڈ کارپیٹ بچھاتے ہوئے 76 ہزار کروڑ کے قرض معاف کر رہی ہے؟ کون لے گیا یہ پیسہ؟‘‘


ایودھیا کیس میں مسلم فریق فتحیاب ہوں تو وہ زمین ہندوؤں کے حوالے کر دیں: ضمیرالدین شاہ

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے ایودھیا کیس کے تعلق سے ایک بڑا بیان دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اگر عدالت مسلم فریق کے حق میں فیصلہ سناتی ہے تو مسلم فریق کو چاہیے کہ وہ زمین ہندو بھائیوں کے حوالے کر دے۔ ضمیر الدین شاہ کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ کا نکلنا چاہیے ورنہ ہم ہمیشہ لڑتے رہیں گے۔ علاوہ ازیں ضمیر الدین شاہ نے یہ بھی کہا کہ عدالت سے باہر معاملہ کا حل تلاش کرنے کی وہ بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عدالت کو چاہیے کہ وہ اس تنازعہ کے تعلق سے واضح فیصلہ سنائے۔ اگر سپریم کورٹ مسلمانوں کے حق میں فیصلہ سناتی ہے تو کیا وہاں مسجد تعمیر کرنا ممکن ہے؟ یہ قطعی ممکن نہیں ہے۔ اس لیے کیس جیتنے کی صورت میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ زمین ہندو بھائیوں کو دے دیں۔


یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading