اتر پردیش: اعظم گڑھ میں شہریت قانون مخالف مظاہرہ کے دوران پولس پر پتھراؤ کا الزام، 19 افراد گرفتار
اترپردیش واقع اعظم گڑھ میں شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف ایک مظاہرہ کے دوران پولس پر پتھراؤ کیے جانے کا الزام ہے۔ اس الزام میں پولس نے 19 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ پولس سپرنٹنڈنٹ ٹی سنگھ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ کچھ خواتین اور بچے احتجاجی مظاہرہ کرنے کے لیے اکٹھا ہوئے تھے۔ جب پولس نے انھیں منتشر کرنے کی کوشش کی تو کچھ شرپسندوں نے پولس پر پتھراؤ کیا۔ اس کے پیش نظر کارروائی کی گئی ہے۔
Azamgarh: 19 people arrested for allegedly pelting stones at police during an anti-CAA protest. T Singh, SP says, "Section 144 is in force in the district. Some women&children had gathered to protest, when police tried to disperse them some rowdies pelted stones at police". (5.2) pic.twitter.com/55rUkl9DiY
— ANI UP (@ANINewsUP) February 6, 2020
الیکشن کمیشن نے سمبت پاترا کو جاری کیا نوٹس
الیکشن کمیشن نے ایک ٹیلی ویژن شو میں اشتعال انگیز بیان دینے کے سبب بی جے پی ترجمان سمبت پاترا کو بدھ کے روز نوٹس جاری کیا۔ کمیشن نے سمبت پاترا کو مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملے میں یہ نوٹس جاری کیا ہے اور جمعرات کو 5 بجے تک اس کا جواب دینے کو کہا ہے۔ کمیشن نے عام آدمی پارٹی کی شکایت کے بعد یہ نوٹس جاری کیا۔ عام آدمی پارٹی نے شکایت کی تھی کہ سمبت پاترا نے 4 فروری کو ٹی وی 18 کے شو میں اشتعال انگیز بیان دیا تھا۔
دہلی: بدر پور سے بی ایس پی امیدوار نارائن دت شرما پر قاتلانہ حملہ، کئی حامی زخمی
دہلی اسمبلی الیکشن کے آخری دور میں بدر پور سے بی ایس پی امیدوار نارائن دت شرما پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے۔ خبروں کے مطابق نارائن دت شرما رات تقریباً ایک بجے میٹنگ ختم کر کے گھر لوٹ رہے تھے جب راستے میں نامعلوم حملہ آوروں نے ان کی کار پر حملہ کر دیا۔ حملے کے دوران کار کے سبھی شیشے ٹوٹ گئے۔ اس حملے میں اندر بیٹھے نارائن دت شرما اور ان کے حامی زخمی ہو گئے ہیں۔
Delhi: BSP candidate from Badarpur,Narayan Dutt Sharma alleges that 8-10 men,in a vehicle, attacked his vehicle last night while he was returning from a meeting. Says "I was injured due to shards of glass. I suspect that people against whom I'm fighting election, are behind this" pic.twitter.com/57yMR18dD9
— ANI (@ANI) February 6, 2020
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو