دہلی تشدد میں ہلاک مزید 3 افراد کی لاشیں نالے سے برآمد
شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے تشدد میں جان گنوانے والے مزید تین لوگوں کی لاشیں اتوار کے روز برآمد کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک لاش گوکل پوری سے جبکہ دو لاشیں بھگیرتھی وہار سے برآمد کی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ تینوں لاشیں نالے سے برآمد ہوئی ہیں۔
Delhi Police officials at the spots confirm that three bodies have been recovered today; one from a canal in Gokalpuri and two from Bhagirathi Vihar canal. #DelhiViolence
— ANI (@ANI) March 1, 2020
بٹلہ ہاؤس میں ایک نوجوان لڑکا اور لڑکی نے خودکشی کرلی
نئی دہلی: جنوب مشرقی دہلی کےجامعہ نگر علاقے کے بٹلہ ہاؤس میں ایک نوجوان لڑکے اور لڑکی نے خودکشی کرلی۔ پولیس افسر نے اتوار کو یہاں بتایا کہ سنیچر دیر رات جامعہ نگر پولیس کو بٹلہ ہاؤس میں نوجوان لڑکا اور لڑکی کے خودکشی کے بارے میں اطلاع ملی۔ پولیس جب جائے واقع پر پہنچی تب ایک فلیٹ کے اندر دو لاشیں پڑی تھیں۔ فلیٹ اندر سے بند تھا۔
افسر نے بتایا کہ جانچ کے دوران ان کی پہچان وصی خان (23) اور فرحین (23) کےطور پر ہوئی ہے۔ دونوں لداخ کے رہنے والے ہیں۔ ابتدائی جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ لڑکا بٹلہ ہاؤس میں ہی رہتا تھا جب کہ لڑکی فرحین دہلی یونیورسٹی کے نزدیک وجے نگر میں رہتی تھی۔ فرحین کل رات ہی وصی سے ملنے بٹلہ ہاؤس آئی تھی۔ دونوں کے اہل خانہ جائے واقع پر پہنچ گئے ہیں اور لاشوں کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (ایمس) کے ٹراما سینٹر بھیج دیا گیا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ جائے واقع سے دو سوسائڈ نوٹ برآمد ہوئے ہیں۔ لڑکے نے ایک صفحہ کا جبکہ لڑکی نے دو صفحات پر مشتمل سوسائڈ نوٹ لکھا ہے۔ پولیس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔
دہلی فرقہ وارانہ فساد کے دوران کیجریوال کی مجرمانہ خاموشی :نسیم خان
ممبئی: سینئر کانگریس لیڈر و سابق وزیر محمد عارف نسیم خان نے دہلی کے فرقہ وارانہ فساد کے دوران دہلی کے وزیر اعلی کیجریوال کی مجرمانہ خاموشی کی سخت لفظوں میں مذمت کی اور کہا ہے کہ دہلی جل رہا تھا اس وقت کیجریوال نے کس کے اشاروں پر خاموشی اختیار کر رکھی تھی ملک کے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ کیجریوال نے مرکزی وزیر امت شاہ سے ملاقات کی تھی اس کے بعد انہوں نے آگ میں جھلس رہی دہلی کے معاملے میں اپنی آنکھیں موند لی تھیں۔ نسیم خان نے کہا کہ کیجریوال کا یہ کردار رہا ہے کہ انہوں نے ملک کے کسی بھی حصہ میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے معاملے میں فوری ردعمل ظاہر کیا ہے لیکن اپنی ہی ریاست میں ہونے والے فسادات پر وہ خاموش کیوں رہے۔
نسیم خان نے کہا کہ فسادات پر معاوضہ کا اعلان کرنے سے ہی کسی ماں کو اس کا بیٹا نہیں مل جاتا اور جو لوگ فساد میں متاثر ہوئے ہیں ان کے دوبارہ صحیح راستے پر آنے میں بہت دیر لگ جائے گی۔
جیل میں قید ڈاکٹر کفیل کی جان کو خطرہ، اہلیہ نے ہائی کورٹ کو خط لکھا
ڈاکٹر کفیل خان کی اہلیہ شبستہ خان نے شوہر کی زندگی کو خطرہ قرار دیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سینئر سرکاری عہدیداروں کو لکھے گئے اپنے خط میں شبستہ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سی اے اے مخالف مظاہروں میں شامل ہونے کی پاداش میں متھرا جیل میں قید اپنے شوہر کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈاکٹر کفیل پر اشتعال انگیز بیان بازی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، ایڈیشنل چیف سکریٹری (ہوم) اور ڈائرکٹر جنرل (جیل خانہ) اور دیگران کو لکھے گئے خط میں شبستہ نے کہا ، ’’میرے شوہر کو جیل میں ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے۔‘‘
شبستہ نے کہا کہ وہ جیل میں قید اپنے شوہر کی زندگی کے حوالہ سے خوفزدہ ہیں اور انہیں پورا تحفظ دینے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ان کے شوہر کو سرگرم مجرموں سے دور عام قیدیوں کے ساتھ رکھا جائے۔‘‘
اہم خبریں: شاہین باغ میں سی اے اے مخالف مظاہرہ کے دوران دفعہ 144 نافذ
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے درمیان دہلی کے شاہین باغ میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں موقع پر بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔
دریں اثنا پولیس کی جانب سے ایک اطلاعاتی بورڈ بھی لگایا گیا ہے جب پر لکھا ہے، ’’آپ سبھی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ یہاں دفعہ 144 لاگو ہے۔ اس علاقے میں مجمع لگانے کا مظاہرہ کرنے کی کی اجازت نہیں ہے۔ اس کی خلاف قانونی کارروائی کا باعث بن سکتی ہے۔‘‘
Joint Commissioner DC Srivastava at Delhi's Shaheen Bagh: As a precautionary measure, there is heavy police deployment here; Our aim is to maintain law and order and prevent any untoward incident from occurring. https://t.co/Wh9ONK0LgI pic.twitter.com/OsL4Geqz0D
— ANI (@ANI) March 1, 2020
احتیاط کے طور پر یہاں موجود ہیں: ڈی سی پی
شاہین باغ میں سیکیورٹی سخت کرنے پر ڈی سی پی آر پی مینا نے کہا، ’’یکم مارچ کو شاہین باغ مظاہرے کے خلاف احتجاج کے کافی میسیج وائرل ہوئے تھے۔ ہم نے امن کمیٹی اور مقامی رہنماؤں سے بات کی۔ سبھی نے متفقہ طور پر سی اے اے حامی احتجاج کو منسوخ کردیا۔ ہم احتیاط کے طور پر یہاں موجود ہیں۔‘‘
تمام انتظامات احتیاطاً اٹھائے گئے ہیں: جوائنٹ کشمنر
شاہین باغ میں دفعہ 144 کے نفاذ کے حوالہ سے جوائنٹ کمشنر ڈی سی سریواستو نے کہا، ’’تمام انتظامات احتیاطاً کیے گئے ہیں، ضلع کے اعلی افسران اور سی آر پی ایف کی بیرونی فورس اور دہلی پولیس ہمارے پاس ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ لوگوں میں امن اور سلامتی کا احساس برقرار رہے۔‘‘
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو