مشکل میں معیشت، سرکار کوئی نتیجہ خیز قدم اٹھائے: کانگریس
کانگریس نے معیشت کے مسئلہ پر مرکز کی مودی حکومت سے سوال پوچھا ہے۔ کانگریس نے کہا ہے کہ ہماری معیشت انتہائی بحرانی صورت میں ہے۔ اس کے باوجود حکومت نتیجہ خیز قدم کیوں نہیں اٹھا رہی ہے۔ کانگریس نے ٹوئٹ کر کے لکھا ہے کہ ’’جب لوگ بنیادی اور ضروری چیزیں نہیں خرید رہے ہیں، جب سیکٹر در سیکٹر مندی کی مار جھیلنے کے لیے مجبور ہیں، تو آپ جانتے ہیں کہ ہماری معیشت سنگین بحران میں ہے۔ ہندوستان کو اس مشکل سے باہر نکالنے کے لیے حکومت نتیجہ خیز قدم کیوں نہیں اٹھا رہی ہے؟‘‘
When people aren't buying basic essentials, when sector after sector is falling flat, you know our economy is in serious trouble.
Why isn't the govt taking decisive measures to lead India out of this mess?https://t.co/OXOsykb7jO
— Congress (@INCIndia) September 19, 2019
شیو سینا نے بی جے پی کو دی دھمکی، کہا ’’140 سیٹیں نہیں تو بی جے پی سے اتحاد بھی نہیں‘‘
مہاراشٹر اسمبلی انتخاب سے پہلے سیٹوں کی تقسیم کو لے کر بی جے پی-شیو سینا میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔ شیو سینا کے سینئر لیڈر سنجے راؤت نے واضح کر دیا ہے کہ ان کی پارٹی برابری کی حالت میں ہی بی جے پی کے ساتھ مل کر انتخاب لڑے گی۔ سنجے راؤت نے کہا کہ ’’جب امت شاہ اور وزیر اعلیٰ (دیویندر فڑنویس) کے درمیان بات چیت کے دوران 50-50 فارمولہ اپنانے کا فیصلہ کر لیا گیا تو یہ بیان (دیواکر راؤتے کا بیان) غلط نہیں ہے۔ انتخاب ساتھ (بی جے پی) لڑیں گے، کیوں نہیں لڑیں گے۔‘‘
Shiv Sena's,Sanjay Raut on Maharashtra Min Diwakar Raote's statement 'if Shiv Sena doesn't get half the seats then alliance could break':If 50-50 seat sharing formula was decided upon before Amit Shah Ji&CM,then his statement isn't wrong.Chunaav sath ladenge,kyun nahi ladenge pic.twitter.com/m2fbggbgyt
— ANI (@ANI) September 19, 2019
دہلی-این سی آر: ٹرانسپورٹرس کی ہڑتال سے لوگ پریشان، سڑک سے آٹو-ٹیکسی ندارد
ٹرانسپورٹرس کی ہڑتال کی وجہ سے دہلی-این سی آر میں لوگوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دفتر جانے کے لیے لوگ گھروں سے تو نکلے لیکن انھیں سڑک سے آٹو-ٹیکسی وغیرہ ندارد نظر آئے۔ سرکاری بسوں میں اس کی وجہ سے کافی بھیڑ دیکھی گئی اور اسکول و کالجوں کے بچے اس کی گیٹ پر لٹک کر سفر کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔ کئی مقامات پر ہڑتال کرنے والوں نے اولا اور اوبیر کو بھی روکا۔
Office-goers face difficulties due to transport strike in #Delhi_NCR https://t.co/aiDn2L5Fti
— Devdiscourse (@dev_discourse) September 19, 2019
ٹرانسپورٹرس ہڑتال: دہلی-این سی آر میں رکوائی جا رہیں اولا-اوبیر، مسافر پریشان
ٹرانسپورٹروں کا ہڑتال حالانکہ پورے ملک میں ہے لیکن دہلی-این سی آر میں اس کا اثر کافی زیادہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ دہلی-این سی آر میں کئی جگہ اولا اور اوبیر کو ٹرانسپورٹرس کے لوگ رکوا رہے ہیں جس سے لوگ کافی پریشان ہیں۔ یہ ہڑتال مودی حکومت کے ذریعہ نئے ٹریفک قانون اور بڑھے ہوئے چالان کے خلاف ہے۔
transporters strike: चालान पर ट्रांसपोर्टरों की हड़ताल: दिल्ली-NCR में रुकवाई जा रहीं ओला-ऊबर, लोग परेशान – transporters strike supporters stop ola and uber taxies travellers face distress | Navbharat Times https://t.co/puboiwoAyl
— Abhijeet Chauhan (@Abhiskp29) September 19, 2019
مودی حکومت سے ناراض ٹرانسپورٹرس آج دہلی-این سی آر میں ہڑتال پر
مودی حکومت کے ذریعہ ٹریفک قانون میں کی گئی تبدیلیوں کے خلاف آج 19 ستمبر کو یونائٹیڈ فرنٹ آف ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن (یو ایف ٹی اے) نے یک روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اس ہڑتال کے مدنظر دہلی-این سی آر میں لوگوں کو خاصہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پریشانی سے بچنے کے لیے کئی اسکول نے بند رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حالانکہ اسکول کو بند رکھنے کے سلسلے میں حکومت نے کوئی صلاح یا حکم جاری نہیں کیا ہے۔ لیکن پرائیویٹ آپریٹروں کے ذریعہ بسوں کی عدم دستیابی کے سبب اسکول کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ہڑتال کا اعلان کرنے والے ادارہ یو ایف ٹی اے میں ٹرک، بس، آٹو، ٹیمپو، میکسی، کیب اور ٹیکسیوں کا دہلی/این سی آر میں نمائندگی کرنے والے 41 یونین اور ایسو سی ایشن شامل ہیں۔ اس بند کے دوران چونکہ اولا اور اوبیر بھی بند رہیں گے اس لیے مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
#Breaking | Commuter woes peak in National capital after transporters call for a 1-day strike.
Transporters are protesting against the hefty fines imposed under the new MV Act.
TIMES NOW’s Prashant with details. pic.twitter.com/Z6CXh1v2x1— TIMES NOW (@TimesNow) September 19, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
