اہم خبر: حیدر آباد میں شہریت قانون-این آر سی کے خلاف مظاہرہ کے دوران ہنگامہ

حیدر آباد: شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کے دوران ہنگامہ

حیدر آباد میں شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف جمعرات کی شب زبردست احتجاجی مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ پولس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے پاس احتجاجی مظاہرہ کے لیے اجازت نہیں، لیکن وہ سب ایک جگہ جمع ہو گئے۔ پولس نے انھیں مظاہرہ سے روکا جس کے بعد موقع پر ایک ہنگامی حالت پیدا ہو گئی۔ مظاہرین نعرے بازی کرنے لگے جس کے بعد کچھ مظاہرین کو پولس نے حراست میں لے لیا۔ خبروں کے مطابق بعد میں انھیں چھوڑ دیا گیا۔

جمعرات کی شام شروع ہونے والا یہ احتجاج صبح چار بجے تک جاری رہا۔ خالدہ پروین کی سربراہی میں کارکنوں سمیت کچھ برقعے پوش خواتین نے نجی احاطے میں خصوصی طور پر کھڑے خیمے کے نیچے دھرنا شروع کیا۔

زور طاقت احتجاج ختم کروانے پولیس کی کوشش ‘ نوجوانوں پر لاٹھی چارچ ‘ خواتین و نوجوانو ں کا دھرنا جاری

شہریت ترمیمی قانون ‘ مجوزہ این آر سی اور این پی آر کے خلاف نئی دہلی کے شاہین باغ کی طرز پر حیدرآباد میں خواتین کے ذریعہ احتجاج کو آج شام آغاز کے ساتھ ختم کرنے کیلئے ساوتھ زون پولیس کی ضرورت سے زیادہ سرگرمی نے مغلپورہ اور اطراف کے علاقوں میں رات دیر گئے کشیدگی اور سنسنی پیدا کردی ۔ کچھ خواتین اور احتجاجیوں کو پولیس نے حالانکہ مغلپورہ میں احتجاج کے مقام سے منتشر کردیا لیکن رات 2 بجے کے بعد بھی کچھ خواتین اور نوجوان اپنا دھرنا جاری رکھے ہوئے تھے ۔ پولیس نے ایک خانگی مقام پر منعقد ہونے والے احتجاج کو بزور طاقت رات دیر گئے ختم کروانے کی حتی المقدور کوشش کی

جس کے بعد مغلپورہ کے اطراف و اکناف کے علاقوں اور خاص طور پر پانی کی ٹانکی مسجد صلاح الدین خان اور دیگر مقامات پر کثیر تعداد میں نوجوان جمع ہوگئے اورانہوں نے نعرہ بازی کی اور پولیس کی زیادتی اور طاقت کے استعمال کی مذمت کی ۔ تفصیلات کے بموجب مغلپورہ خواجہ کا چھلہ کے قریب ایک عمارت میں شاہین باغ کی طرز پر خواتین کا احتجاج شروع ہوا ۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری جمیعت وہاں پہونچ گئی اور انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی ۔ خواتین اور آرگنائزرس کی جانب سے مزاحمت اور احتجاج جاری رکھنے اصرار پر پولیس نے وہاں تک پہونچنے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کردی ۔ احتجاج

میں حصہ لینے اور احتجاجیوں سے اظہار یگانگت کیلئے جب لوگ پہونچنے لگے تو پولیس نے انہیں راستہ ہی میں روک لیا ۔ جو نوجوان احتجاج کے مقام تک پہونچنے کی کوشش کر رہے تھے انہیں حراست میں لے کر دوسرے مقام کو منتقل کردیا گیا ۔ اے سی پی میر چوک بی آنند نے حد سے زیادہ سرگرمی دکھانے کی کوشش کرتے ہوئے نوجوانوںکو حراست میں لیا ۔ پولیس نے بتدریج بھاری جمیعت کو طلب کرتے ہوئے نہ صر ف وہاں پہونچنے والے عوام کو روک دیا بلکہ خواتین کا احتجاج بھی بزور طاقت ختم کروانا چاہا۔ پولیس کی جانب سے کارروائی کی اطلاع ملنے پر پرانے شہر کے مختلف حصوں سے نوجوان کثیر تعداد میں وہاں جمع ہونے لگے اور کچھ مقامات پر نعرہ بازی بھی کی گئی ۔ صورتحال کشیدہ ہونے پر اڈیشنل ڈی سی پی ساوتھ زون محمد رفیق ‘ انچارچ ڈی سی پی اویناش موہنتی اور دوسرے عہدیدار اور بھاری جمیعت بھی وہاں پہونچ گئی ۔ جہاں خواتین کو منتشر کردیا گیا وہیں رات دیر گئے پانی کی ٹانکی مغلپورہ اور اطراف میں جمع ہونے والے نوجوانوں کو ہلکی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے منتشر کردیا گیا

شہریت کے ترمیمی قانون (سی اے اے) ، نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کے خلاف شاہین باغ جیسا احتجاج کرنے کی خواتین کے ایک گروپ کی کوشش کو حیدرآباد پولیس نے ابتدائی اوقات میں ناکام بنا دیا۔ جمعہ کا تاریخی چارمینار کے قریب موغالپورہ کے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی جب پولیس نے پولیس کی ‘زیادتیوں’ کے خلاف مظاہرہ کرنے والے کچھ نعرے بازی کرنے والے نوجوانوں کو حراست میں لیا۔

جمعرات کی شام شروع ہونے والا یہ احتجاج صبح چار بجے تک جاری رہا۔ خالدہ پروین کی سربراہی میں کارکنوں سمیت کچھ برقعے پوش خواتین نے نجی احاطے میں خصوصی طور پر کھڑے خیمے کے نیچے دھرنا شروع کیا۔

یہ خبر پھیلتے ہی طلباء اور گھریلو خواتین سمیت مزید خواتین بھی اس احتجاج میں شامل ہو گئیں۔ وہ سی اے اے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے اور این پی آر اور این آر سی کی مخالفت کر رہے تھے۔

انچارج ڈپٹی کمشنر پولیس (ساؤتھ زون) اویناش موہنتی کی سربراہی میں سینئر پولیس حکام موقع پر پہنچ گئے اور منتظمین سے احتجاج ختم کرنے کو کہا۔ تاہم ، انہوں نے نجی جگہ پر ہونے والے احتجاج میں پولیس کی مداخلت پر اعتراض اٹھایا۔

کچھ خواتین کارکنان پولیس اہلکار سے التجا کرتی نظر آئیں کہ وہ پر امن اور خاموش احتجاج جاری رکھنے کی اجازت دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کی کثیر تعداد میں موجودگی تناؤ پیدا کررہی ہے۔

جب پولیس نے خواتین کو احتجاج کے مقام تک پہنچنے سے روکا تو کچھ نوجوان ملحقہ گلیوں میں سڑکوں پر نکل آئے اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔

یہ کھڑا دن کے اوائل وقت تک جاری رہا۔ پولیس نے کچھ مظاہرین کو مختصر طور پر حراست میں لیا۔

منتظمین نے الزام لگایا کہ پولیس نے نجی احاطے کے مالک پر دباؤ ڈالا کہ وہ مظاہرین کو جگہ خالی کردیں۔شہر میں پچھلے کچھ دنوں کے دوران خواتین کے ذریعہ زبردست احتجاج دیکھا گیا ہے۔ کارکن دہلی میں شاہین باغ کی طرح اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر مستقل احتجاج کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

کانگریس لیڈر حسیب اپنے آبا و اجداد کی قبر پر جا کر زار و قطار روئے، مانگا شہریت کا ثبوت

اتر پردیش کے الٰہ آباد (پریاگ راج) میں کانگریس لیڈر حیسب احمد گزشتہ 21 جنوری کو اپنے آبا و اجداد کی قبر پر گئے۔ وہاں پہنچ کر وہ زار و قطار روئے اور ہندوستانی شہریت سے متعلق ثبوت ان سے مانگے۔ اس موقع کی تصویر اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ دراصل حسیب احمد شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کر رہے ہیں اور اسی کے پیش نظر وہ اپنے آبا و اجداد کی قبر پر گئے اور روتے ہوئے شہریت کے ثبوت مانگ کر ایک طرح سے اپنا احتجاج درج کیا۔

سی اے اے-این آر سی کے خلاف شرد پوار کا احتجاجی مظاہرہ آج

شہریت قانون-این آر سی کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کا دور جاری ہے۔ آج ممبئی میں این سی پی سربراہ شرد پوار احتجاجی مظاہرہ کرنے والے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں شرد پوار نے سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا، کانگریس لیڈر پرتھوی راج چوہان اور ونچت بہوجن اگھاڑی کے لیڈر پرکاش امبیڈکر کے ساتھ گیٹ وے آف انڈیا پر اسٹیج شیئر کیا اور گاندھی شانتی یاترا کو روانہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ شہریت قانون، این آرسی ملک کے سامنے موجود سنگین مسائل سے دھیان ہٹانے کی کوشش ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ شہریت قانون ملک کی مذہبی و سماجی اتحاد اور خیر سگالی کو بگاڑے گا اور اسے نقصان پہنچائے گا۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading