الگ عقیدہ رکھنے والوں کو ’جے شری رام‘ کہنے کے لیے مجبور کیوں کیا جا رہا: اپرنا سین
بنگالی اور ہندی فلم انڈسٹری کی معروف ہستی اپرنا سین نے ملک میں ہو رہے موب لنچنگ کے واقعات پر سوال کھڑے کیے ہیں۔ انھوں نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ آخر الگ عقیدہ رکھنے والے لوگوں کو ’جے شری رام‘ کہنے کے لیے مجبور کیوں کیا جا رہا ہے۔ پورے ملک میں لوگوں کی موب لنچنگ ہو رہی ہے، جو درست نہیں۔
Aparna Sen, one of the signatories to open letter to PM Modi: We're anxious about the state our country is in today. All over India people are being lynched, why people of different faiths are being forced to say 'Jai Shri Ram'. pic.twitter.com/Fd2X3wyHjk
— ANI (@ANI) July 24, 2019
آر ایس ایس والے ہمارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے: اکبرالدین اویسی
آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے لیڈر اکبرالدین اویسی نے آر ایس ایس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ ’’آر ایس ایس والے ہمارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے۔ دنیا اسی کو ڈراتی ہے جو ڈرتا ہے، دنیا اسی سے ڈرتی ہے جو ڈرانا جانتا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اکبرالدین اویسی سے نفرت کیوں ہے؟ ’15 منٹ‘ ایسا ضرب ہے جو ابھی بھی نہیں بھر سکا۔‘‘
Akbaruddin Owaisi, AIMIM: RSS wale humara baal bhi baanka nahi kar sakte. Duniya ussi ko darati hai jo darta hai, duniya ussi se darti hai jo darana janta hai. Akbaruddin Owaisi se nafrat kyun hai? '15 minute' aisa zarb (blow) hai jo abhi bhi nahi bhar saka. (23.7.19) pic.twitter.com/39gnBdHpwp
— ANI (@ANI) July 24, 2019
کرناٹک میں سیاسی گرمی کے دوران یدی یورپا کی آر ایس ایس لیڈروں سے ملاقات
بنگلورو میں بی جے پی لیڈر بی ایس یدی یورپا نے چمراج پیٹ کے آر ایس ایس دفتر پہنچ کر آر ایس ایس لیڈروں سے ملاقات کی۔ اس دوران انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں یہاں آر ایس ایس فیملی کے سینئر لیڈروں کی دعائیں لینے کے لیے آیا تھا۔ میں دہلی سے حکم کا انتظار کر رہا ہوں، کسی بھی وقت ہم قانون ساز پارٹی کے لیے کال کریں گے اور پھر راج بھون جائیں گے۔‘‘
BS Yeddyurappa, BJP at RSS office in Chamrajpet, Bengaluru: I came here to take blessings of senior leaders of the Sangh Parivar. I'm waiting for instructions from Delhi, at any point of time we will call for Legislature Party and then head to the Raj Bhavan. #Karnataka pic.twitter.com/uur15ku3Ya
— ANI (@ANI) July 24, 2019
کرناٹک: کانگریس کا ایک نمائندہ وفد اسپیکر رمیش کمار سے ملنے پہنچا
کرناٹک میں باغی اراکین اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کو لے کر کانگریس کا ایک نمائندہ وفد اسپیکر رمیش کمار سے ملاقات کے لیے ان کے دفتر پہنچا ہے۔ واضح رہے کہ 23 جولائی کو ریاستی اسمبلی میں کانگریس-جے ڈی ایس حکومت اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام ہو گئی تھی۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی بی جے پی یہاں حکومت سازی کا عمل شروع کرے گی۔
مظفر نگر فساد سے منسلک 20 مزید کیس لیے جائیں گے واپس، یوگی حکومت کی منظوری
اتر پردیش کی یوگی حکومت نے مظفر نگر فسادات سے جڑے 20 کیس اور واپس لینے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت اب تک کل 68 مقدموں کو واپس لینے کی اجازت دے چکی ہے۔ حکومت کی طرف سے جن معاملوں کی واپسی کی اجازت دی گئی ہے وہ پولس اور پبلک کی طرف سے درج کرائے گئے تھے۔ یہ سبھی کیس آگ زنی، لوٹ، ڈکیتی جیسی دفعات سے جڑے ہوئے ہیں۔
اتر پردیش: فائرنگ واقعہ کی جانچ کے لیے ایک ٹیم آج پہنچے گی سون بھدر
اتر پردیش کے اَپر چیف سکریٹری کی قیادت میں ایک جانچ کمیٹی آج سون بھدر کا دورہ کرے گی۔ سون بھدر میں 17 جولائی کو آراضی تنازعہ میں ایک فریق نے دوسرے فریق پر فائرنگ کر دی تھی جس میں 10 قبائلیوں کی جان چلی گئی تھی اور کئی زخمی ہوئے تھے۔ جانچ کمیٹی اس واقعہ کے تعلق سے پوری جانکاری حاصل کرے گی۔
An investigation committee led by Uttar Pradesh Upper Chief Secretary to arrive in Sonbhadra today. 10 people were killed in Sonbhadra due to firing over a land dispute on July 17.
— ANI UP (@ANINewsUP) July 24, 2019
وندے بھارت ایکسپریس کے پروڈکشن میں تاخیر پر سنجے راؤت نے دیا وقفہ صفر میں نوٹس
شیو سینا رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت ’وندے بھارت ایکسپریس‘ کے پروڈکشن میں تاخیر سے ناراض ہیں اور انھوں نے اس تعلق سے راجیہ سبھا میں وقفہ صفر کا نوٹس دیا ہے۔
Shiv Sena MP Sanjay Raut gives Zero Hour Notice in Rajya Sabha over "delay in production of Vande Bharat Express". (File pic) pic.twitter.com/VazgvrvgNh
— ANI (@ANI) July 24, 2019
لالچ اور ذاتی مفادات کے سامنے جمہوریت اور کرناٹک کے عوام کی شکست ہوئی: راہل
کرناٹک میں کانگریس-جے ڈی ایس حکومت گرنے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ پہلے دن سے ہی اتحاد کے خلاف کچھ لوگ ذاتی مفادات کے لیے سازش تیار کر رہے تھے۔ آج اسی لالچ کے سامنے جمہوریت اور کرناٹک کے لوگوں کی شکست ہوئی۔
From its first day, the Cong-JDS alliance in Karnataka was a target for vested interests, both within & outside, who saw the alliance as a threat & an obstacle in their path to power.
Their greed won today.
Democracy, honesty & the people of Karnataka lost.
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) July 23, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
