اہم خبریں: دہلی میں خفیہ محکمہ کے افسر انکت شرما کی لاش برآمد


دہلی: چاند باغ علاقہ سے خفیہ محکمہ کے افسر انکت شرما کی لاش برآمد

شمال مشرقی دہلی کے چاند باغ علاقہ میں خفیہ بیورو افسر انکت شرما کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ لاش کو قبضے میں لے کر پولس نے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ اس سلسلے میں فی الحال کوئی تفصیل حاصل نہیں ہو سکی ہے۔


دہلی کی موجودہ حالت کے لیے وزیر داخلہ ذمہ دار، امت شاہ استعفیٰ دیں: سونیا گاندھی

کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد پارٹی صدر سونیا گاندھی نے پریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’دہلی کی موجودہ حالت کو لے کر میں متفکر ہوں۔ بی جے پی لیڈروں کے اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا ہے۔ اس کے لیے وزیر داخلہ ذمہ دار ہیں۔ امت شاہ کو اس کی ذمہ داری قبول کر کے استعفیٰ دینا چاہیے۔‘‘

پی ایس اے کے تحت محبوبہ مفتی کی گرفتاری پر سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر انتظامیہ کو جاری کیا نوٹس

جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعظم محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی کے ذریعہ جموں و کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ 1978 کے تحت ماں کی نظربندی کو چیلنج دینے والی عرضی پر سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر انتظامیہ کو نوٹس جاری کیا۔


سپریم کورٹ میں شاہین باغ معاملہ پر سماعت 23 مارچ تک ملتوی

شاہین باغ سڑک پر شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہی خواتین کو ہٹانے سے متعلق عرضی پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی لیکن عدالت عظمیٰ نے کارروائی شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد اسے 23 مارچ تک ملتوی کر دیا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق عدالت نے کہا کہ اس وقت جیسے حالات ہیں، اس میں متعلقہ عرضی پر سماعت کرنا ممکن نہیں ہے اس لیے آئندہ سماعت 23 مارچ کو ہوگی۔


شمال مشرقی دہلی کے متاثرہ علاقوں میں کرفیو لگایا جائے: اروند کیجریوال

شمال مشرقی دہلی کے متاثرہ علاقوں میں وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کرفیو لگانے اور فوج بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کیجریوال نے ٹوئٹ کر کے کہا کہ ’’میں پوری طرح سے لوگوں کے رابطہ میں رہا ہوں۔ حالات فکر انگیز ہیں۔ پولس اپنی سبھی کوششوں کے باوجود حالات کو قابو میں کرنے اور اعتماد بڑھانے میں ناکام ہے۔ باقی متاثرہ علاقوں میں فوراً کرفیو لگایا جائے اور فوج کو طلب کیا جائے۔ میں وزیر داخلہ کو اس سلسلے میں لکھ رہا ہوں۔‘‘


کانسٹیبل رتن لال کے اہل خانہ راجستھان میں دھرنا پر بیٹھے، کہا ’دیا جائے شہید کا درجہ‘

شمال مشرقی دہلی میں دو گروپوں میں تصادم کے دوران مارے گئے کانسٹیبل کے گھر والے راجستھان کے سیکر میں دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کانسٹیبل رتن لال کو شہید کا درجہ دیا جائے۔ واضح رہے کہ رتن لال کا آبائی گھر سدینسر ہے جو کہ سیکر میں پڑتا ہے۔ اسی جگہ پر رتن لال کے اہل خانہ دھرنے پر بیٹھے ہیں اور ان کے ساتھ کچھ مقامی لوگ بھی ہیں۔


یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading