اہلیانگر ضلع کے سوندالا گاؤں کا ذات مکت عزم پورے مہاراشٹر میں پہنچنا چاہیے: ہرش وردھن سپکال

اہلیانگر ضلع کے سوندالا گاؤں کا ذات مکت عزم پورے مہاراشٹر میں پہنچنا چاہیے: ہرش وردھن سپکال

امتیاز اور نفرت کے ماحول میں سوندالا گاؤں نے اتحاد، مساوات اور بھائی چارے کا پیغام دیا

ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ اہلیانگر ضلع کے نیواسا تعلقہ کے سوندالا گاؤں نے گرام سبھا میں ذات مکت قرار داد منظور کر کے ایک مثالی قدم اٹھایا ہے، جو پورے مہاراشٹر میں پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جان بوجھ کر امتیاز، نفرت اور خوف کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے، ایسے وقت میں سوندالا گاؤں کا یہ فیصلہ اتحاد، مساوات اور بھائی چارے کی روشن مثال ہے۔

ہرش وردھن سپکال نے سوندالا گاؤں کا دورہ کر کے دیہاتیوں کو مبارکباد دی اور ان سے تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر گاؤں کے سرپنچ شرد آرگڑے، مہاراشٹر پردیش کانگریس کے سینئر نائب صدر موہن جوشی، جنرل سکریٹری پربھاوتی تائی گھوگرے، اہلیانگر ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر سچن گجر، نائب صدر گیانیشور مرکوٹے، ابھیجیت لونیا، ضلع جنرل سکریٹری رنجن جادھو، نیواسا تعلقہ صدر ناناساہب پٹھارے، ضلع خاتون صدر لتا تائی ڈانگے، شیردی شہر صدر سچن چوگولے، پاتھردی تعلقہ صدر ناصر شیخ سمیت بڑی تعداد میں عہدیداران، کارکنان اور مقامی شہری موجود تھے۔

گاؤں کے باشندوں سے خطاب کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ آج دنیا بھر میں خوف اور تقسیم کی سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر بھی خوف کا ماحول بنایا جا رہا ہے، جبکہ ملک اور ریاست میں بھی ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر دیواریں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ماحول میں سوندالا گاؤں نے ذات مکت قرار داد منظور کر کے ’ڈرو مت‘ کا پیغام دیا ہے۔ سپکال نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ذات کو بدلا نہیں جا سکتا، مذہب تبدیل ہو سکتا ہے لیکن ذات کا خانہ ہر جگہ درج کرنا پڑتا ہے، یہاں تک کہ اسکول میں داخلے کے وقت بھی سب سے پہلے ذات پوچھی جاتی ہے۔ ان کے مطابق حالیہ برسوں میں ذات پات کی خلیج مزید گہری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بیڑ ضلع میں سنتوش دیشمکھ کے قتل کے بعد بگڑتے سماجی ماحول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض مقامات پر اپنی ہی ذات کے لوگوں سے خرید و فروخت یا مذہبی تقریبات تک محدود رکھنے جیسے رجحانات سامنے آئے، جو سماج کے لیے تشویشناک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ایسے حالات میں سدبھاؤنا پدیاترا نکال کر مختلف ذاتوں اور مذاہب کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی۔ سپکال نے مزید کہا کہ آج راشٹر سنت گاڈگے مہاراج کی جینتی ہے اور سوندالا گاؤں کا فیصلہ ان کی تعلیمات سے ہم آہنگ ہے۔ گاڈگے بابا نے صفائی، اندھی عقیدت کے خاتمے، سماجی انصاف اور انسانیت کا پیغام دیا تھا اور سوندالا گاؤں نے اسی راستے پر چلتے ہوئے ایک مثالی قدم اٹھایا ہے۔ ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ سماجی طور پر آلودہ ہو چکے ماحول میں سوندالا گاؤں نے شفافیت اور ہم آہنگی کی علامت پیش کی ہے، اور یہی پیغام ریاست بھر میں پھیلنا چاہیے تاکہ ذات پات کی دیواریں ٹوٹیں اور انسانیت کو فروغ ملے۔

MPCC Urdu News 23 Feb. 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading