اسرائیلی اخبار معاریف نے کہا ہے کہ اسرائیل میں اندازوں سے پتہ چلتا ہے کہ حزب اللہ اپنے فوجی کمانڈر فواد شکر کے قتل کے جواب میں اگلے 24 گھنٹوں کے اندر حملہ کردے گی۔ اخبار نے اسرائیلی اور امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ یہ امکانات ظاہر کرتے ہیں کہ ایرانی حملے سے پہلے حزب اللہ اسرائیل پر حملہ کرے گی۔
اُدھر ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے مشیر برائے سیاسی امور علی شمخانی نے عبرانی زبان میں ایک بلاگ پوسٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل پر عائد کی جانے والی سخت ترین سزا کے لیے حالات سازگار ہیں اور اس اقدام کے لیے قانونی، سفارتی اور میڈیا کے حوالے سے تیاریاں کرلی گئی ہیں۔
گزشتہ اپریل میں ایران نے اسرائیل پر ڈرونز اور میزائل حملے شروع کیے تھے۔ یہ حملہ دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر اسرائیلی حملے کے جواب میں کیا گیا تھا۔ 300 سے زیادہ ڈرونز اور میزائلوں کے اس حملے سے اسرائیل میں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا تھا۔ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں نے اکثر ڈرونز اور میزائلوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا تھا
اب 31 جولائی کو تہران میں حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کو قتل کیا گیا ہے اور ایران نے اس کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کر رکھا ہے۔ ہنیہ کے قتل اور اس کے چند گھنٹے قبل لبنان میں حزب اللہ کمانڈر فواد شکر کے قتل سے خطے میں کشیدگی پھیلنے کے خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے۔
حزب اللہ نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل میں ایک فوجی اڈے پر ڈرونز سے حملہ کیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے جمعہ کو جنوبی لبنان کے شہر صیدا میں ایک حملے میں حماس کے ایک رہنما کو قتل کردیا گیا تھا۔ حزب اللہ کا حملہ اس کے جواب میں کیا گیا۔