نئی دہلی، 18.اپریل (یو این آئی) انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے سائنسداں ڈاکٹر رمن آر گنگاکھیڑکر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس ’کووِڈ-19‘ کے مریضوں کو تپ دق سے بچانے والی بی سی جی ویکسین دیے جانے سے ان کے ٹھیک ہونے سے متعلق دعوے پر ریسرچ اگلے ہفتے سے شروع کر دی جائے گی۔مسٹر گنگا کھیڑکر نے جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس میں بتایا کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو پیدائش کے وقت اسے یہ ویکسین دی جاتی ہے اور اسے مستقبل میں تپ دق کے تیئں ’جزوی روک تھام‘ فراہم کرتی ہے۔ اسے ایک بہتر امیونومائڈیولیٹر کہا جاتا ہے لیکن اس کا اثر نوجوانی تک ہی رہتا ہے مگر ابھی تک ایسی کوئی بھی مصدقہ ریسرچ نہیں ہوئی ہے کہ یہ ویکسین ’کووِڈ-19 کے مریضوں کو تحفظ فراہم کرے گی یا نہیں اور اسی کا ٹیسٹ کرنے کے لیے آئی سی ایم آر کی جانب سے اگلے ہفتے تک ایک ریسرچ کیا شروع ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس ریسرچ کے نتائج سامنے نہیں آ جاتے‘تب تک اس ویکسین کے صحت اہلکاروں کی دیے جانے کی صلاح بالکل نہیں دی جا سکتی ہے۔
کورونا وائرس کے شکل بدلنے (میوٹیشن) کی استعداد کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے بعد کورونا کی تین شکلوں (نوعیت) کا پتہ چلا ہے اور یہ تمام اسٹرین ایک ہی جیسے ہیں جو اپنے ملک میں بھی پائے جاتے ہیں، بس ان میں مخصوص علاقے کی بنیاد پر واضح فرق دیکھا جا سکتا ہے لیکن ان کی بنیادی نوعیت ایک جیسی ہے۔