اِمام احمد رضا اور خدمت خلق

محسن رضا ضیائی،پونے ،مہاراشٹر . 9921934812

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں ابھرنے والی ایک نادرِ زمن اور نابغہ¿ روزگار ہستی کا نام ہے ، جنہوں نے مختلف شعبہاے حیات میں گوناگوں خدمات اور کارنامے انجام دیے، جو تاریخ کے صفحات پر روشن حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ آپ علم و فضل ، زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت، تواضع و انکساری، اخلاق و سلوک، وعظ و نصیحت، درس و تدریس، ادب و شاعری، فقہ و حدیث اور تصنیف و تالیف کے میدانوں میں اپنی مثال آپ تھے۔ دوردور تک آپ کے ہم عصروں میں آپ کا کوئی مماثل نظر نہیں آتا تھا۔ آپ کی خدمات کا دائرہ پوری دنیا میں پھیلا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے پناہ ذہانت و فطانت کے ساتھ ساتھ بے گماںصلاحیت و قابلیت سے بھی نوازا تھا۔ آپ کی پوری عمر دین و سنیت کی احیاو تجدید کرتے ہوئے گزری۔ آپ نے ایک ہزار سے زائد کتابیں تصنیف فرماکر قوم و ملت کی دینی، شرعی اور نظریاتی طور پر جو رہ نمائی فرمائی ہے وہ آپ کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ آپ نے اپنے اخلاق و کردار، علم و عمل اور تحریر و قلم کے ذریعے بھٹکے ہوے لوگوں کو راہِ راست پر لانے کا گراں بہا کام بھی سر انجام دیا۔ یہی نہیں بلکہ باطل افکار و نظریات کی نشر و اشاعت کرنے والوں کو اپنے تحریر و قلم کے ذریعے تشت از بام اور بے نقاب بھی کیا۔دنیاے سنیت پر یہ آپ کا احسانِ عظیم ہے۔ آپ تعمیری ،رفاہی اور فلاحی کاموں کے ساتھ ساتھ خدمتِ خلق، غربا پروری اور انسانیت نوازی میں بھی بہت زیادہ پیش پیش رہتے تھے، بلکہ ان میدانوں میں بھی آپ نے ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں۔ گویا جس جہت اور جس زاویہ سے بھی دیکھا جائے تو آپ کی شخصیت گوناگوں اوصاف و کمالات کا مجموعہ نظر آتی ہے۔

urs_100_3653412_835x547-m
بلاشبہ آپ کئی ایک اوصاف و محاسن کے مالک اور ایک ہمہ جہت و عبقری شخصیت کے حامل تھے۔ آپ کی شخصیت کے کئی ایک نمایاں اور ممتاز پہلو ہیں، جن میں سے ایک اہم پہلو خدمتِ خلق اور حقوقِ انسانیت بھی ہے، جن میں آپ یگانہ¿ روز گار شخصیت تھے۔اپنے قرب و بعد کے پڑوسیوں، رشتہ داروں، غریبوں، فقیروں، محتاجوں، یتیموں اور تمام لوگوں کے حقوق و فرائض کا یکسر طور پر خیال رکھا کرتے تھے۔ اگر کوئی تہی دامن آپ کی خدمتِ با برکت میں چلا آتا تو وہ آپ کی بارگاہِ کرم نوازی سے اپنے دامن کو گوہرِ مراد سے بھر کر واپس لوٹتا۔ کوئی کیسا بھی حاجت مند آپ کی خدمتِ عالیہ میں حاضر ہوجاتا ، آپ اس کی تمام تر ضرورتوں کو پوری فرمادیا کرتے تھے۔
آپ قوم و ملت کا درد رکھنے والے ایک عظیم قائد و رہ نما اور بے مثال سخی و جواد تھے۔ آپ کی بارگاہ سے بے شمار لوگوں کے وظائف بھی مقرر تھے۔ آپ نے غربا پروری اور انسانیت نوازی کی ایک انوکھی اور شان دار مثال قائم کی ہے۔ اس سے آپ کی سخاوت و فیاضی اور قوم و ملت کے تئیں ایک دھڑکتے ہوئے دل کا بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے۔ آپ کی بارگاہ غربا، فقرا اور حاجت مند لوگوں کی آماج گاہ تھی، جہاں سے ان کی ضرورت و کفالت کا سامان مہیا ہوا کرتا تھا۔ آپ قرب و بعد کے تمام لوگوں کے حالات کا جائزہ لیتے رہتے تھے۔ انہیں مصائب و مشکلات اور معاشی بحران میں مبتلا پاتے تو فوراً اس جانب توجہ فرماتے اور انہیں ان مصیبت خیز حالات اور در پیش مشکلات سے نجات دلاتے تھے۔
آپ تنگ دستوں اور حاجت مندوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی، غم خواری، خیر خواہی، راحت رسانی، فراخ دلی اور فلاح و بہبودگی کا معاملہ بھی فرمایا کرتے تھے۔ پڑوسیوں کی خاطر داری، بیماروں کی تیمارداری اور کمزوروں کی حال پرسی کا حد درجہ التزام و اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ سچ یہ ہے کہ قدرت نے آپ کے اندر خدمتِ خلق اور انسانیت نوازی کا بے پناہ جذبہ ودیعت کر رکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ہمیشہ اپنے پڑوسیوں، رشتہ داروں، غریبوں، فقیروں اور یتیموں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کی تگ و دو اور فکر و سعی میں مصروفِ کار رہتے تھے۔
یقیناً خدمتِ خلق کا فریضہ انجام دینا یہ ایک بہت بڑی عبادت ہے۔ مذہب اسلام نے فرض و واجب عبادات کے بعد خدمتِ خلق کو سب سے زیادہ اہمیت و فوقیت دیا ہے۔ یہاں تک کہ قرآن عظیم کے مطابق تخلیقِ انسانی کا مقصد بلا شبہ عبادت و ریاضت ہے، لیکن عبادت و ریاضیت سے مراد محض نماز، روزہ حج، اور زکات نہیں ہے، بلکہ اس میں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی شامل ہیں۔علامہ فخر الدین رازی علیہ الرحمہ نے تفسیر کبیر میں عبادت کی تفسیر کرتے ہوے ایک جگہ لکھا ہے کہ :
مَا ال±عِبَادَةُالَّتِی± خُلِقَ ال±جِنُّ وَال±اِن±سُ لَھَا ؟ قُل±نَا : اَلتَّع±ظِی±مُ لِاَم±رِِ اللّٰہِ وَالشَّفَقَةُعَلَی خَل±قِِ اللّٰہِ ، فَاِنَّ ھٰذَی±نِ النَّو±عَی±نِ لَم± یَخُل± شَر±عµ مِن±ھَا۔
یعنی پوری عبادت کا خلاصہ صرف دو چیزیں ہیں۔ ایک امرِ اِلٰہی کی تعظیم اور دوسری خلقِ خدا پر شفقت و کرم نوازی۔
ڈاکٹر اقبال نے بھی اپنے ایک شعر میں خدمت خلق کو واضح اور واشگاف لفظوں میں یوں بیان کیا ہے:
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انساں کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
ڈاکٹر اقبال نے مذکرہ شعر میں تخلیقِ انسانیت کے مفہوم کو واضح لفظوں میں بیان کردیا کہ زندگی کا مقصد و مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان صرف اپنی ذات سے تعلق رکھے، بلکہ مقصدِ تخلیق یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کے رنج و غم، دردوالم اور مصیبت و پریشانی میں کام آئے۔بلا مبالغہ امام اہل سنت علیہ الرحمہ کی ذات اس شعر کے بالکل مصداق و موافق تھی۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ایک سماجی خدمت گزار، قوم و ملت کے حقیقی خیر خواہ اور ایک انقلاب آفریں شخصیت تھے۔ آپ کے خدمتِ خلق اور انسانیت نوازی کے اہم اور گراں بہا کارناموں سے آپ کی سیرت و سوانح کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔
(مضمون نگار ماہ نامہ انوارِ ہاشمی بیجاپور کے چیف ایڈیٹر ہیں)

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading