اوريا: اترپردیش میں اوريا کے اچھلدا علاقے میں بدھ کے روز گائے کی باقیات ملنے سے کشیدگی پھیلی گئی۔ پولس نے بتایا کہ نگريا گاؤں میں قضائے حاجت کے لئے جانے والے ایک مقامی باشندے مہندر سنگھ کو مبینہ طور پر ایک فارم میں گائے کی باقیات دکھائی پڑی۔ دیکھتے ہی دیکھتے موقع پر سینکڑوں دیہی باشندے جمع ہو گئے اور وہاں غصہ اور کشیدگی پھیلنے لگی۔
گاؤں کے پرکاش تیواری، پریم سنگھ، رتیک پوروال، اروند، شیورام وغیرہ کا الزام ہے کہ گاؤں میں گئوكشی کا کاروبار کافی عرصے سے چلا آ رہا ہے۔ اطلاع ملنے پر اے ڈی ایم وجے بہادر سنگھ، اے ایس پی کملیش دکشت، ایس ڈی ایم رماپتی، سی او لالتا پرساد، بدھونا کوتوال سدھیر کمار سنگھ سمیت اچھلدا، پھپھوند وغیرہ کئی تھانوں کی پولس فورس موقع پہنچ گئی تھی۔
پولس اور ضلع انتظامیہ کے حکام نے مشتعل دیہاتیوں کو سمجھاتے ہوئے قصورواروں کا پتہ لگا نے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کیے جانے کی یقین دہانی کرائی۔ ساتھ ہی گاؤں میں کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہونے پائے، اس لئے گاؤں میں فورس نے پیدل مارچ بھی کیا۔ سنگین طور پر زخمی بچھڑے کو علاج کے لئے بیٹرنیری اسپتال اچھلدا بھجوایا۔
ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ وجے بہادر سنگھ اور ایڈیشنل پولس سپرنٹنڈنٹ کملیش دکشت نے گاؤں کے لوگوں سے کہا کہ یہ شرمناک واقعہ ہے۔ اس کے مجرم لوگوں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ جس سے اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہو سکیں۔ اس کے بعد ہی مقامی باشندوں کا غصہ ٹھنڈا ہوا۔
– Source بشکریہ قومی آواز بیورو—
