اورنگ آباد : (ورق تازہ نیوز) مرزا ظہیر اشرف ولد مرزا فیاض بیگ عرف ظ اشرف کا آج صبح انتقال ھوگیا۔ وہ لینڈ ریکارڈ میں ملازمت کرتے ھوئے سٹی سروے سے ریٹائرڈ ھوئے تھے۔ وہ بہت عمدہ خطاط تھے۔ اورنگ آباد میں جو چند لوگ خطاطی کے فن سے واقف تھے ان میں سے ایک تھے۔ اشرف کے والدین کا تعلق حیدرآباد سے تھا۔ ان کے والد بھی ایک اچھے خطاط تھے اور اشرف نے انہی سے خطاطی سیکھی تھی۔ بعد میں کچھ عرصہ وہ حیدرآباد کے اپنے وقت کےمشہور خطاط سلام صاحب کی زیر تربیت بھی رہے۔ اشرف انھی کے نہج پر خطاطی اور کتابت کیا کرتے تھے۔
اورنگ آباد کی اخباری دنیا میں شیر خان صاحب، عبدالماجدذبیح، ظ اشرف، زورآور خان، م ع رزاق، فاروق شمیم، عبدالستارکے بعد علیم کھامگاؤی اور طلحہ قریشی ایسے خطاط تھے جو فن سے اچھی طرح واقف رھے اور ان کا خط انتہائی خوبصورت اور جاذب نظر تھا۔ ان میں سےاب فاروق شمیم، عبدالستار طلحہ اور م ع رزاق باقی ہیں۔
اشرف سے کچھ لکھوانا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔ میں نے اشرف سے عبدالرب چاوش حیراں کا مجموعہ کلام غزالہ غزل اور بشر نواز کا دوسرا مجموعہ کلام اجنبی سمندر کی مکمل کتابت کروائی تھی۔
اشرف اور ان کے والد کی کتابت والے رقعے کئی آج بھی بطور نمونہ رکھے ھوئے ہیں۔ ایسے اور لوگوں آصف ریاض پرنٹر ، علیم کھامگاؤی، ماجدبھائی بھی شامل ہیں۔ اشرف کے ایک چھوٹے بھائی خسرو نے گورممنٹ اسکول آف آرٹس سے بی ایف اے کرلیا تو فیاض صاحب ریٹائر ڈ ھوچکے تھے۔ انھوں نے لوٹا کارنجہ میں ماجد بھائی کے سپر آفسیٹ پریس کی جگہ پر ھدیٰ پرنٹرس بھی ڈالا۔ پھر یہ پوری فیملی حیدرآباد منتقل ھوگئی۔ وھاں مچھلی کمان میں آج بھی ان کا ھدیٰ پرنٹرس جاری ھے۔
اشرف ایک شریف النفس، باوقار اور دکن کی روایت کا پروردہاور ان کا پاسدار انسان تھا۔ بلٹ موٹرسائیکل کا شوقین تادم مرگ بلٹ موٹر سائیکل اسکی معشوقہ رہی ھے۔
1995میں عبدالرب چاؤش کے جشن حیران کے پروگرام میں اسے تحسین رقم کے خطاب سے بھی نوازا گیا تھا اور یہ خطاب اسی اس وقت کی شیو سینا حکومت کے وزیر داخلہ پربھاکر مورے کی موجودگی میں محترم اختر الزماں ناصر کے ھاتھوں دیا گیا تھا۔ اللہ مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔
ادارہ ورق تازہ ان کے لئے اللہ رب العزت سے دعا گو ہیں کہ کی مغفرت فرمائےانھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائ اور متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔