جنرل باڈی میٹنگ میں منظوری کے بغیر میئر کی رولنگ بغیر ٹینڈر جاری کرنے میں جلد بازی
اورنگ آباد:(جمیل شیخ): میونسپل کارپوریشن کے سدھارتھ گارڈن میں جانوروں کو بیگ سپلائی کرنے کے لئے ہر سال ایک کانٹریکٹر نامزد کیا جاتا ہے اس کے لئے جنرل باڈی میٹنگ کے سامنے تجویزپیش کی جاتی ہے اور اس تجویز کی منظوری کے بعد ٹینڈر کاروائی کو عمل میں لایا جاتا ہے۔ لیکن اس مرتبہ زو انتطامیہ نے جنرل باڈی میٹنگ میں ایک تجویز کی منظوری کے بعد میئر کے رولنگ کی منظوری کے بغیر ٹینڈر جاری کرنے میں جلد بازی دکھائی ہے میئر نند کمار گھوڑیلے نے سدھارتھ گارڈن اور زو سیکشن کی میٹنگ لی اس موقع پر گارڈن سپرنٹنڈنٹ وجئے پاٹل نے جانورو ں کے بیف کی خریدی کا ۶۶ لاکھ ۹۱ ہزار ۰۵۹ روپئے کے خرچ پر مبنی ایک تجویز میئر کے سامنے پیش کی اس طرح اس کام کے لئے ٹینڈر جاری کیاگیا
اس طرح کی وضاحت بھی کی تب میئر نے کہا کہ اب تک اس تجویز کو منظوری نہیں دی پھریہ ٹینڈر جاری ہوا کیسے انہوں نے دوبارہ اس بات کو دہرایا کہ تجویز پر اب تک میں نے دستخط نہیں کئے جب انہوں نے اپنے سیکشن کے افسران کو فون کرکے پوچھ تاچھ کی تو پتہ چلا کہ میئر نے اب تک اس تجویز کو رولنگ کے ساتھ منظوری نہیں دی۔ اس بات پر پردہ ڈالنے کے لئے میئر نے ایک لیٹر جاری کرکے فوراً اس رولنگ کو منظوری لینے کی ہدایت دی۔ واضح ہو کہ زو میں روزانہ ایک کوئنٹل سے زائد بیف لگتا ہے ان جانوروں کو ہفتہ ایک دن گوشت نہیں دیا جاتا جس کی وجہ سے سال میں ۳۱۳ دن گوشت سپلائی کیا جاتا ہے۔ فی الوقت مارکیٹ ریٹ کے مطابق گوشت 180 روپئے کلو ہے اور اسی بھاﺅ والا گوشت ان جانوروں کو دیا جاتا ہے جبکہ ان جانوروں کو ویسا گوشت نہیں دیا جاتا ہے۔جیسا دیا جانا چاہئے اور سال بھر کا ٹینڈر ہونے کی وجہ سے یہ گوشت 120 روپئے کلو سے 160 روپئے کلو کے حساب سے دینا چاہئے یہ اطلاع ذرائع نے دی پھر بھی 180 روپئے کے حساب سے جو گوشت دیا جارہا ہے اس کا ٹینڈر ۶۶ لاکھ ۹۱ ہزار کا ہے۔ جانوروں میں پیلا شیر ۷ کلو سفید شیر ایک کلو اور کل آٹھ شیروں کو روزآنہ ۲۱ سے ۳۱ کلو گوشت لگتا ہے۔ وہی پانچ مگر مچھ ہونے کی وجہ سے ۳ چیتوں کو ۴ سے ۵ کلو گوشت فراہم کیا جاتا ہے۔ وہی پانچ مگر مچھ ہونے کی وجہ سے ہر مگرمچھ کو دیڑھ کلو گوشت کولہوں کو ۴ کلو دو اود بلاﺅ کو ایک ایک کلو ایک لومڑ کو ۲ کلو اس طرح 1175 کلو گوشت لگتا ہے۔