اورنگ آباد، 13/مارچ(ورق تازہ نیوز)اورنگ آبادسے قریب واقع چکل تھانہ میں منی گھاٹی کے قریب دو گروپوں میں آوازکے معاملے پر جھگڑے کے بعد کچھ دیر تک کشیدگی رہی۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر آف پولس نونیت کاوت پولیس فورس کے ساتھ پہنچے، حالات قابو میں ہیں، افواہوں پر یقین نہ کریں ۔مختلف دفعات لگا دی گئی ہیں۔ اگر کوئی پولیس ا سٹیشن میں شکایت درج کروانا چاہتا ہے تو وہ ایم آئی ڈی سی سے ربط قائم کریں۔
منگل کی رات چکالتھانہ میں ایک نوجوان کو مارا پیٹا گیا جب ایک گروپ مندر گیا اور آرتی کو بند کرنے کو کہا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر دو مختلف مذہبی برادریوں کے دو گروہ آمنے سامنے آئے اور نعرے لگانے لگے۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور صورتحال پر قابو پالیا اور مزید ہنگامہ ٹل گیا۔
تفصیلات کے مطابق چکلتھانہ میں دو مختلف مذاہب کی دو عبادت گاہیں ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ منگل کی رات 8:30 بجے، خواتین مندر میں آرتی کر رہی تھیں کہ دوسری برادری کے کچھ نوجوان آئے اور ان کے ساتھ بحث کی جس کے بعد معاملہ طول پکڑگیا اور راجو روٹے، کرشنا ناگے کو مار پیٹ کر زخمی کر دیا۔ دونوں مقامی برادریوں کے ہجوم سڑک پر آمنے سامنے آگئے۔ دونوں گروپس مذہبی نعرے بازی پر اتر آئے کشیدگی کو دیکھتے ہوئے تاجروں نے اپنی دکانیں بند کر دیں۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس نونیت کاوت نے بتایا کہ امن کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی کارروائی جاری ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے، دونوں سماج کے نوجوان چکالتھانہ کے دونوں مذہبی مقامات پر لاؤڈ سپیکر کی آواز کو لے کر آمنے سامنے ہیں۔ ڈیڑھ سال پہلے اس پر لڑائی ہوئی تھی۔ لیکن گاؤں کے بزرگوں نے صلح کا کردار ادا کیا۔
اب رمضان کے مہینے کی پہلی رات کو پھر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ ہفتہ کی رات چکالتھانہ منی گھاٹی کے قریب دو گروپوں کے درمیان اسی بات کو لے کر پھر سے تنازعہ ہوگیا۔
اس کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور حالات پر قابو پالیا۔ فی الحال چکالتھانہ میں امن ہے۔ اس معاملے میں مقدمہ درج کرنے کا عمل جاری ہے۔
ہم اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کریں گے۔ ہم تمام شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی پوسٹ پر یقین نہ کریں۔
نونیت کاوت، ڈپٹی کمشنر آف پولیس۔اورنگ آباد