جمعیة علماءمہاراشٹر(ارشد مدنی) نے قانونی امداد فراہم کی
ممبئی: 19 اگست(ورق تازہ نیوز) انڈین مجاہدین نامی ممنوعہ تنظیم کے رکن ہونے کے الزام میں گذشتہ10برسوں سے جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے والے ملزم ڈاکٹر انور علی باغبان کو آج اس وقت راحت حاصل ہوئی جب بامبے ہائی کورٹ نے اسے دو الاکھ روپئے کے ذاتی مچلکہ پر مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کا حکم جاری کیا ۔
جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی ) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے بتایا کہ آج ملزم کو ممبئی ہائی کورٹ کی جسٹس ریوتے ڈیرے نے مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔انہوں نے کہا کہ ملزم کی درخواست ضمانت پر بحث کرتے ہوئے ایڈوکیٹ مبین سولکر نے ممبئی ہائی کورٹ کے جسٹس ریویتی موہیتی ڈیرے کو بتلایا کہ ملزم کا بم دھماکوں سے قبل میڈیا ہاﺅس کو ای میل بھیجنے سے کوئی لینا دینا نہیںنیز ملزم کی گرفتاری کے وقت انڈین مجاہدین نامی تنظیم کو دہشت گرد تنظیم قرار نہیں دیا گیا تھا ۔ایڈوکیٹ مبین سولکر نے مزید کہا کہ متذکرہ معاملے میں ملزم کے خلاف سوائے اس کے اقبالیہ بیان اور دیگر ملزمین کی جانب سے دیئے گئے مبینہ اقبالیہ بیان کے علاوہ کوئی ثبوت موجود نہیں ہے نیز10 سال کا عرصہ گذر جانے کے باوجود بھی ملزم کے خلاف قائم مقدمہ کی سماعت عمل میں نہیں آئی ہے لہذا ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جائے ۔ایڈوکیٹ مبین سولکر نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں عدالت نے متعدد ملزمین کو ضمانت پر رہا کیا ہے جن کے خلاف سنگین الزامات استغاثہ نے عائد کیئے تھے لہذا یکسانیت کی بنیاد پر عرض گذار کو بھی ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔
حالانکہ جسٹس ڈیرے کے سامنے وکیل استغاثہ راجاٹھاکرے نے سخت لفظوں میں ضمانت عرضداشت کی مخالفت کی اور کہا کہ انڈین مجاہدین معاملے میں ملزمین کے خلاف سنگین معاملات ہیں اور یہ اپنی نوعیت کا ایک ایسا معاملہ ہے جسمیں بظاہر تو ثبوت و شواہد نظر نہیں آئیں گے لیکن باریک بینی سے مطالعہ کے بعد یہ ثابت ہوجائے گا کہ ملزم دہشت گردانہ کارروائی میں ملو ث تھا نیز ملزم نے بم دھماکوں کی ٹریننگ لینے پاکستان بھی گیا تھا ۔کئی سماعتوں تک چلی فریقین کی بحث کے بعد جسٹس ڈیرے نے دفاعی وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ملزم ڈاکٹر انور علی کواس مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے ۔
اس مقدمہ کے تعلق سے گلزار اعظمی نے کہا کہ انڈین مجاہدین نامی دہشت گردانہ معاملے میں ممبئی کرائم برانچ نے23 اعلی تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کے خلاف مقدمہ قائم کیا ہے او ر چارج شیٹ داخل کردی ہے لیکن وہ گذشتہ10 برسوں سے جیل کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں کیونکہ اس معاملے میں گرفتار چند ملزمین کی جانب سے کچھ لوگ اپنی سستی شہرت اور منفعت زر کی خاطر چارج فریم نہیںہونے دیا جس کی وجہ سے دیگر ملزمین کو جیل کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملز م کی ضمانت پر رہائی کے بعد جمعیة اپنے سینئر وکلاءسے مشورہ کر کے دیگر ملزمین کی درخواست ضمانت کے تعلق سے غور کریگی ۔
انہوں نے اس کامیابی پر دفاعی وکلاءایڈوکیٹ مبین سولکر، طاہیرہ قریشی، یعقوب شیخ ودیگر کو مبارکباد پیش کی ہے ۔واضح رہے2008میں ممبئی کرائم برکی جانب سے انڈین مجاہدین نامی دہشت گرد انہ معاملے میں گرفتار کیئے گئے ملزمین پر الزام ہیکہ انہوں نے گجرات میں ہوے سلسلہ وار بم دھماکوں سے پہلے اور بعد میں ٹی وی چینلوں اور میڈیا ہاﺅس کو ای میل رانہ کر کے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی اور پولس نے مبینہ طور پر ان کے قبضوں سے ہتھیاروں کا ذخیرہ بھی بر آمد کرنے کا دعوی کیا تھا ۔