انڈیا کے بہترین بلے باز تیز لیفٹ آرم سوئنگ بولنگ کے سامنے ڈھیر کیوں ہوگئے؟

پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والے ہر میچ کی طرح اس میچ سے قبل بھی انڈین بیٹنگ اور پاکستانی بولنگ کے درمیان مقابلے کا چرچا تھا۔دونوں ٹیمیں تقریباً ساڑھے چار سال بعد ون ڈے فارمیٹ میں ایک دوسرے سے کھیل رہی تھیں۔جب میچ شروع ہوا تو پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور نسیم شاہ نے توقعات کے مطابق اپنی بولنگ سے نہ صرف انڈین ٹاپ آرڈر کو پریشان کر دیا بلکہ پہلے چار بلے بازوں کو بھی ایک، ایک کر کے بہت جلد آؤٹ کیا جس سے انڈین کیمپ اور شائقین کی امیدیں دم توڑتی نظر آئیں۔

اگر ایشان کشن اور ہاردک پانڈیا نے پانچویں وکٹ کے لیے سنچری پارٹنرشپ نہ بنائی ہوتی تو 49ویں اوور میں آل آؤٹ ہونے والی انڈین ٹیم شاید بہت پہلے ہی پویلین لوٹ چکی ہوتی۔ایشیا کپ کا یہ میچ اگرچہ بارش کی وجہ سے متاثر ہوا لیکن انڈیا کی اننگز کا اُتار چڑھاؤ اور پاکستان کی بولنگ نے اسے کافی دلچسپ بنائے رکھا۔

انڈین اننگز کو جہاں مڈل آرڈر میں ایشان کشن اور ہاردک پانڈیا کے درمیان سنچری پارٹنرشپ سے سہارا ملا وہیں ٹیم انڈیا کے ٹاپ آرڈر کا پاکستانی بولرز کے سامنے اس طرح ڈھیر ہو جانا یقیناً پریشان کن عندیہ تھا۔انڈین بلے بازوں کے پاس ایک بار پھر بائیں ہاتھ کے سوئنگ بولر شاہین شاہ آفریدی کی لہراتی گیندوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔

آفریدی نے پہلے روہت اور ویرات کو پویلین واپس بھیجا اور پھر جب وہ دوبارہ واپس آئے تو انھوں نے ہاردک پانڈیا اور رویندرا جدیجا کو بھی پویلین واپس بھیج دیا۔
23 سالہ آفریدی نے اپنے 10 اوورز میں 44 ڈاٹ بالز کروائیں اور اس دوران وہ ایک ہی اننگز میں ویرات کوہلی اور روہت شرما کی وکٹیں لینے والے پہلے بولر بھی بن گئے۔

میچ کے بعد شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ ’میں نے نئی گیند سے کوشش کی اور شروع میں دو اہم وکٹیں حاصل کیں اور پھر ہاردک پانڈیا کو اس وقت آؤٹ کیا جب وہ بھرپور فارم میں تھے۔ میچ مکمل نہیں ہوا، اگر یہ مکمل ہو جاتا تو میچ ہمارے ہاتھ میں ہوتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ شروع سے ’میری کوشش تھی کہ زیادہ سے زیادہ ڈاٹ گیندیں صحیح جگہ پر کروائیں تاکہ بلے باز رنز بنانے کے لیے گیند کو مارنے کی کوشش کرے۔

’میں سوئنگ کرنے کی کوشش کر رہا تھا پھر میں نے ایک کمبینیشن آزمایا۔ ان سوئنگ اور آؤٹ سوئنگ، جس نے کام کیا۔‘شاہین آفریدی سے جب پوچھا گیا کہ روہت اور ویرات میں سے کس کی وکٹ لینے میں زیادہ مزہ آتا ہے تو انھوں نے روہت شرما اور ویرات کوہلی دونوں کا نام لیا۔پاکستان کے تین تیز رفتار بولرز کے اٹیک پر آفریدی نے کہا کہ ’ہم شراکت داری میں بولنگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حارث رؤف اپنے باؤنسر اور پیس سے بلے باز کو ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نسیم شاہ اور میں سوئنگ سے۔‘

آخر میں انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ سرخ گیند سے زیادہ بولنگ کرتے ہیں تو سفید گیند سے بولنگ کرنا آسان ہوتا ہے۔ ہم تین بولرز مخالف ٹیم کو کم رنز پر آؤٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ہماری ٹیم کے لیے آسانی ہو۔‘

ایشیا کپ میں ریکارڈ
آفریدی کے ساتھ ساتھ 20 سالہ نسیم شاہ اور 29 سالہ حارث رؤف نے انڈیا کی تمام 10 وکٹیں آپس میں شیئر کیں اور اس کے ساتھ ہی ایشیا کپ کا ریکارڈ بھی بن گیا۔یہ پہلا موقع ہے جب ایشیا کپ میں کسی ٹیم کی تمام 10 وکٹیں تیز گیند بازوں نے لی ہیں۔

انڈیا کا ٹاپ آرڈر کیوں ناکام ہوا؟
تو ایسا کیا ہوا کہ پاکستانی بولرز کے سامنے انڈین ٹاپ آرڈر ڈگمگا گیا۔

میچ سے قبل کئی کرکٹ ماہرین کہہ رہے تھے کہ آفریدی اور رؤف کے ساتھ ساتھ نسیم شاہ کو پہلے 10 اوورز میں سنبھل کر کھیلنا ہو گا کیونکہ درمیانی اوورز میں یہ پیس بیٹری اتنی خطرناک نہیں ہوتی جتنی نئی گیند کے ساتھ ہوتی ہے۔

اس میچ میں بھی ایسا ہی ہوا۔ آفریدی مسلسل تیز گیندیں کر رہے تھے اور گیندوں کو سوئنگ بھی کر رہے تھے۔ وہ جتنا اچھا آؤٹ سوئنگ کر رہے تھے، اتنا ہی گیند ان سوئنگ بھی ہو رہا تھا۔انڈین کپتان روہت شرما نے اچھی شروعات کی تھی لیکن میچ کے پانچویں اوور میں وہ آفریدی کے ہاتھوں بولڈ ہو گئے۔

بارش کی وجہ سے وقفے کے بعد واپسی پر آفریدی نے پہلی تین گیندوں کو آؤٹ سونگ کیا جس پر روہت کوئی رن نہیں بنا سکے اور پھر اس اوور کی آخری گیند ان سوئنگ ہوئی جو آف اسٹمپ پر گرنے کے بعد اندر کی طرف آئی اور بیٹ اور پیڈ کے درمیان خلا سے نکل کر سیدھا وکٹ پر لگی۔ایک اوور میں ویرات کوہلی کو بھی آؤٹ کر دیا۔ ویرات نے بیک فٹ پر جا کر آف سائیڈ پر گیند کو کھیلنے کی کوشش کی لیکن گیند بلے کے اندرونی کنارے کو لے کر لیگ اسٹمپ سے ٹکرا گئی۔

انڈین ٹاپ آرڈر کی ایک بڑی کمزوری بائیں ہاتھ کے تیز رفتار اور سوئنگ بولرز کو کھیلنا رہا ہے اور یہی کمزوری ایک بار پھر شاہین شاہ آفریدی کی شکل میں سامنے آئی۔اگر ہم ریکارڈ کی بات کریں تو 2021 سے اب تک روہت شرما چھٹی بار اور ویرات کوہلی چوتھی بار بائیں ہاتھ کے گیند باز کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے ہیں۔شریاس آئر نے طویل عرصے بعد ٹیم میں واپسی کرتے ہوئے اچھا آغاز کیا اور آٹھ گیندوں پر 14 رنز بنائے تاہم 10ویں اوور میں وہ حارث رؤف کی شارٹ گیند کو مڈ وکٹ پر چھکا لگانے کی کوشش میں فخر زمان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

اس کے بعد بارش نے ایک بار پھر میچ میں خلل پیدا کر دیا۔ 12ویں اوور کے دوران بارش کی وجہ سے کھیل تقریباً 20 منٹ کے لیے روک دیا گیا اور جب پھر سے میچ شروع ہوا تو ایک سرے پر جمے ہوئے شبھمن گل کو بھی رؤف نے پویلین واپس بھیج دیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading