انقرہ کے قریب ایوی ایشن کمپنی پر حملہ، چار افراد جان سے گئے

ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے قریب جنگی ساز و سامان بنانے والی کمپنی ترکش ایروسپیس انڈسٹریز (ٹی اے آئی) کے ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے حملے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 14 زخمی ہو گئے ہیں۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے مطابق حملہ آوروں نے سرکاری ادارے کی عمارت کے اندر داخل ہو کر بم پھینکے اور فائرنگ کی۔ ترک صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ ایرو سپیس انڈسٹریز کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ ’ہمارے ملک کی بقا اور سلامتی کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔‘

حال ہی میں ایکس پر شیئر کیے گئے ایک طویل بیان میں ایردوآن کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی دہشت گرد تنظیم ہماری سلامتی کو نشانہ بنانے اور اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی گی۔‘خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر والادیمیر پوتن نے انقرہ کے قریب جنگی ساز وسامان بنانے والی سرکاری کمپنی کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملے کی مذمت کی اور ہلاک ہو جانے والوں کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔

بدھ کو روس کے شہر کازان میں ‘برکس’ اجلاس کے موقع پر روسی صدر یوتین کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے صدر ایردوآن نے کہا کہ وہ اس سفاکانہ حملے کی مذمت کرتے ہیں۔دوسری جانب ترک وزیرِ داخلہ علی یرلیکایا کے مطابق حملے کے دوران دو حملہ آور بھی مارے گئے ہیں۔ترکش ایروسپیس انڈسٹریز (ٹی اے آئی) ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے قریب قائم ایک سرکاری ادارہ ہے۔ یہ ادارہ سویلین اور فوجی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ڈرونز بھی بناتا ہے۔ جو نہ صرف ترک فوج استعمال کرتی ہے بلکہ دنیا بھر میں فروخت بھی کیے جاتے ہیں۔

ٹی اے آئی کی ویب سائٹ کے مطابق اس ادارے کے قیام کا مقصد ایروسپیس ٹیکنالوجی کے حوالے سے ترکی کی دفاعی درآمدات میں کمی لانا تھا۔یہ کمپنی ترکی میں امریکی ڈیزائن کردہ ایف 16 لڑاکا طیاروں کی لائسنس یافتہ مینوفیکچرر ہے۔ ٹی اے آئی ترک فوج کے استعمال کے لیے پرانے طیاروں کو جدید بنانے میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ فرم ترکی کی مسلح افواج اور ترک حکومت کے دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے ایک ادارے کے ماتحت ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading