انتخابات میں ای وی ایم کے استعمال پر ریفرنڈم کرایا جائے

نئی دہلی۔17 جون (سیاست ڈاٹ کام) الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بارے میں سنگین شبہات ہونے کا دعوی کرتے ہوئے سینئر کانگریس لیڈر ایم ویرپا موئلی نے ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کیا ہے کہ آیا اسے انتخابی عمل میں استعمال کیا جانا چاہئے یا بیلٹ پیپروں کو واپس لایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریفرنڈم بیلٹ پیپروں پر ہونا چاہئے ناکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال کیا جائے جن کے بارے میں بھروسے کا فقدان ہے۔ موئلی نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو انٹرویو میں بتایا کہ ہر کوئی ای وی ایم پر شک کررہا ہے۔ یہ نہایت سنگین معاملہ ہے اور ای وی ایم کے بارے میں سنگین شبہات پائے جاتے ہیں۔ میرے خیال میں کئی ممالک جیسے امریکہ ای وی ایم کو استعمال کرنے کے بعد معمول کی ووٹنگ کے طریقہ پر واپس ہوچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب سنگین شبہات ظاہر کئے گئے تو الیکشن کمیشن اور حکومت کو سرگرم عمل ہوکر بیلٹ پیپر کے طریقہ پر واپس ہوجانا چاہئے چوں کہ بھروسہ اٹھ گیا ہے اور ای وی ایم مشینوں کو چھوڑکر بیلٹ پر واپس ہونا پڑے گا۔ میرے خیال میں انتخابی عمل کے اس سوال پر اگر عوام کا ریفرنڈم درکار ہو تو حکومت کو اس قسم کا ریفرنڈم منعقد کرانا چاہئے لیکن یاد رہے کہ ریفرنڈم مشینوں پر نہ ہو بلکہ بیلٹ پیپر استعمال کیے جائیں۔ ریفرنڈم منعقد کرتے ہوئے ہم سچائی جان پائیں گے۔ اگر یہ این ڈی اے کے حق میں ہے تو ٹھیک ہے لیکن کم از کم شبہات ختم ہوجائیں گے۔ سابق چیف منسٹر کرناٹک نے کہا کہ ریفرنڈم کی ضرورت الیکٹورل سسٹم اور مشینوں کے بارے میں گہرے شبہات کی وجہ سے محسوس کی جارہی ہے اور یہ منعقد کیا جانا چاہئے۔ موئلی نے الزام عائد کیا کہ خود الیکشن کمیشن کا برتاﺅ مشکوک بن چکا ہے کیوں کہ اس نے انتخابی عمل کے بارے میں شبہات ظاہر کیے جانے کے باوجود ان کو دور کرنے کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ یہ پوچھنے پر کہ کیوں کانگریس مبینہ ای وی ایم فراڈ کا مسئلہ پرزور انداز میں نہیں اٹھارہی ہے، انہوں نے کہا کہ پارٹی نے انتخابات کے دوران ہی یہ معاملہ الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا لیکن پارٹی چاہتی ہے کہ اس مسئلہ کو شکست کے لیے عذر کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔ 79 سالہ کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ کوئی بہانہ نہیں بلکہ سنگین اعتراض ہے۔ جب میں وزیر قانون تھا اس وقت بھی کچھ شبہات تھے اور ہم نے ایک کمیٹی مقرر کی تھی لیکن اب سنگین شبہات پیدا ہوگئے ہیں اور مشینوں کو بیلٹ کے حق میں چھوڑدینا ہوگا۔ موئلی کے ریمارکس سے چند روز قبل یو پی اے چیرپرسن سونیا گاندھی نے اشارہ دیا تھا کہ ای وی ایمس کے بارے میں گزشتہ چند سال میں مختلف قسم کے شبہات ابھرے ہیں۔ انہوں نے رائے بریلی میں کہا تھا، ایک قول ہے کہ آگ کے بغیر دھواں نہیں نکلتا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں بشمول کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ ای وی ایمس سے چھیڑ چھاڑ کی جاسکتی ہے جس سے برسر اقتدار بی جے پی کو الیکشن میں فائدہ ہوا ہے۔ بی جے پی نے جوابی تنقید میں کہا کہ کانگریس انتخابات میں اپنی شکست کا احتساب کرنے کے بجائے اکڑکا مظاہرہ کررہی ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading