اناؤ اجتماعی عصمت دری معاملہ میں اس وقت ایک نیا موڑ آ گیا جب عصمت دری کی متاثرہ جس کار میں سفر کر رہی تھی اس کار کی ایک ٹرک سے ٹکر ہو گئی جس میں متاثرہ لڑکی کی والدہ اور چچی کا انتقال ہو گیا ہےاور خود لڑکی کی حالت بہت نازک بنی ہوئی ہے ۔ اس حادثہ کو متاثرہ کے گھر والوں سمیت سماجوادی پارٹی اور کانگریس نے ایک بڑی سازش بتایا ہے اور سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا ہے ۔
Unnao rape case: Victim and 2 others injured after the vehicle they were travelling in, collided with a truck in Raebareli. More details waited. pic.twitter.com/n26TGoxpcK
— ANI UP (@ANINewsUP) July 28, 2019
Unnao rape victim road accident case: Rajiv Krishnan, ADG Lucknow Zone, says after visiting hospital, "Doctors have told me that they (victim & her lawyer) have been put on life support system. Some of their bones have fractured. One of them have head injury." pic.twitter.com/2kBDxaBgx8
— ANI UP (@ANINewsUP) July 28, 2019
UP Congress MLA, Aradhana Mishra: Unnao rape victim met with an accident today under suspicious circumstances, two members of her family have died in the accident. Congress party demands an investigation. pic.twitter.com/NvqrkjziEc
— ANI UP (@ANINewsUP) July 28, 2019
متاثرہ کی بہن نے دعوی کیا ہے کہ اجتماعی عصمت دری کے ملزم بی جے پی کے رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کے حامی مستقل سلح کرنے کے لئے جان سے مارنے کی دھمکی دے رہے تھے ۔ دوسری جانب اتر پردیش کے سابق وزیر اعلی اکھیلیش یادو نے اس حادثہ کو ایک سازش بتایا ہے اور اس کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔واضح رہے پولس معاملہ کے دونوں پہلوؤں کو ذہن میں رکھ کر جانچ کر رہی ہے اور وہ اس کی جانچ قتل کی سازش اور حادثہ کے طور پر کر رہی ہے ۔
رائے بریلی کے ایڈیشنل پولس سپریٹنڈنٹ ششی شیکھر سنگھ کے مطابق متاثرہ کے چچا رائے بریلی جیل میں بند ہیں اور متاثرہ کے رشتہ دار ان سے ملنے رائے بریلی جا رہے تھے کہ سلطان پور کھیڑا موڑ پر کار کی ٹکر ایک ٹرک سے ہو گئی جس میں چار لوگ شدید زخمی ہو گئے ہیں اور متاثرہ کی والدہ اور چچی کا انتقال ہو گیا ہے ۔ ششی شیکھر سنگھ نے بتایا کہ ٹرک ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس سے پوچھ تاچھ جاری ہے ۔زخمیوں کا علاج لکھنؤ کے ٹراما سینٹر میں چل رہا ہے ۔ جس ٹرک سے کار کی ٹکر ہوئی اس ٹرک پر صرف یو پی 71 لکھا ہوا تھا اور نمبر پلیٹ چھپانے کے لئے اسے کالے رنگ سے رنگ دیا گیا تھا ۔
دوسری جانب اناؤ کے ایس پی ایم کے ورما نے ایک چینل کو بتایا ہے کہ متاثرہ کو پولس سیکیورٹی ملی ہوئی تھی ’’پولس نے متاثرہ کو سیکیورٹی دی ہوئی تھی لیکن حادثہ کے وقت سیکیورٹی اہلکار متاثرہ کے ساتھ نہیں تھے ۔ اس کی جانچ کی جا رہی ہے اور جانچ کی رپورٹ کے بعد اس پر کارروائی کی جائے گی ‘‘۔
MK Verma, SP Unnao: Security guards provided for protection of the victim by police were not present with her at the time of accident today. Investigation underway. Action will be taken once investigation concludes. pic.twitter.com/nLqlBJDXtg
— ANI UP (@ANINewsUP) July 28, 2019
سال 2017میں اناؤ اجتماعی عصمت دری کا معاملہ سامنے آیا تھا جب متاثرہ نے وزیر اعلی کی رہائش کے باہر خود کشی کرنے کی کوشش کی تھی ۔ پولس نے متاثرہ کے والد کو حراست میں لے لیا تھا اور والد کی پٹائی سے موت ہو گئی تھی۔ خاندان کے لوگوں نے پولس اور رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر پر مارپیٹ کا الزام لگایا تھا ۔اس کے بعد وزیر اعلی کے خلاف حز ب اختلاف نے سوال اٹھائے تھے اور سیاسی ہنگامہ کے بعد پورے معاملہ کی جانچ کو سی بی اائی کے حوالہ کر دیا گیا تھا ۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
