تہران، 3جنوری (یواین آئی) ایران کے پاسداران انقلاب اسلامی کے قدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل سلیمانی اور ایرانی حمایت یافتہ تنظیم شیعہ پاپلر موبلائزیشن فورس (پی ایم ایف) جسے حشد الشعبی بھی کہاجا تا ہے کے ڈپٹی ابومہدی المہندس سمیت 10 لوگوں کی جمعہ کی صبح امریکی راکٹ حملے میں موت کےبعد ایرانی حکومت نے کہا ہے کہ مستقبل قریب میں ان کی موت کا بدلہ لیا جائے گا۔ایرانی حکومت کےترجمان علی ربیعی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر کہا کہ ’’امریکہ نے آخری لائن بھی عبور کردی ہے اور مستقبل قریب میں ہم مناسب وقت پر اس کا فیصلہ کن جوابدیں گے۔‘‘
اس سےپہلے ایران کے سپریم لیڈر آیت الہ خامنہ نے امریکہ کے عراق میں راکٹ حملے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجرموں سے اس کا بدلہ ضروری لیا جائے گا۔‘‘مسٹر خامنہ ای نے کہا کہ ’’سلیمانی کی شہادت کے باوجود خدا کے کرم سے ان کا کام اور ان کے دکھائے ہوئے راستے بند نہیں ہوں گے۔
جن گنہگاروں نے اپنے گندے ہاتھ ان کے اور دیگر شہیدوں کے خون سے رنگے ہیں ان سے ہم ہر حال میں بدلہ لے کر رہیں گے۔ شہادت اتنےبرسوں تک ان کے ذریعہ مسلسل کئے گئے کاموں کا انعام ہے۔‘‘اس سے پہلے ایران کے وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف نے امریکہ کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ مسٹر ظریف نے ٹوئٹ کیا کہ ’’امریکہ کے ذریعہ آئی ایس آئی ایس، النصرہ اور القاعدہ جیسے دہشت گرد گروپ سے سب سے زیاد موثر طریقہ سے لڑنے والے جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانا اور ان کا قتل کرنا بے حد خطرناک ہے اور بے وقوفی کی حرکت ہے۔ امریکہ کے اس اقدام کےانجام کی ذمہ داری اس کی خود ہوگی۔‘‘ اس درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر امریکی جھنڈے کی تصویر پوسٹ کی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی وزارت دفاع ’پینٹاگن‘ نے حملے کے کچھ دیر بعد اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس بات کی اطلاع دی کہ مسٹر ٹرمپ کے حکم پر یہ کارروائی کی گئی ہے۔ پینٹاگن نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کا مقصد ایران کے مستقبل میں حملے کے منصوبوں کو روکنا ہے۔ اس درمیان ایران نے سلیمانی کی موت کا بدلہ لینے کی بات کہی ہے۔امریکہ کے اس قدم کا خود اس کے ملک میں زبردست مخالفت ہورہی ہے اور اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی کے مختلف اہم لیڈروںنے اس کی زبردست مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کارروائی سے مغربی ایشیا میں تناؤ میں اضافہ ہوگا۔امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی عہدے کے سال 2020 میں ہونے والے امیدوار جوئے بائیڈن، برنی سینڈرس، الیزابیتھ وارین، اینڈیو یانگ اور سینیٹر کرس مرفی نے امریکی حملے میں موت کے معاملے میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایسے بیانات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہےکہ اس سے امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوگا۔