امریکی گلوکارہ جینیفر گراؤٹ نے سنہ 2013 میں اسلام قبول کیا تھا اور وہ قرآن کی خوبصورت آواز میں تلاوت کے حوالے سے بہت مشہور ہیں۔ گذشتہ سات برسوں میں بطور مسلمان انھیں حجاب نہ پہننے پر کیا کیا کچھ سننا اور سہنا پڑا، پڑھیے اس رپورٹ میں۔
’میں دوسروں کے توقعات کے مطابق زندگی گزارتے گزارتے تھک گئی ہوں‘
’لوگوں نے مجھے قرآن کی تلاوت کرنے والی حجابی لڑکی کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے حجاب کے بارے میں آن لائن بحث سے متعلق، جینفر گراؤٹ کا کہنا تھا کہ ’حجاب، عبادت کا صرف ایک طریقہ ہے۔ یہ اسلام کے پانچ بنیادی ستونوں کا حصہ نہیں ہے لیکن آن لائن لوگوں کے تبصر ے پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ حجاب کو زیادہ ہی اہمیت دیتے ہیں اور اسے اسلام کا ایک بنیادی ستون سمجھتے ہیں۔‘
جینفر کہتی ہیں کہ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ ’مجھ جیسے مذہب تبدیل کرنے والے بیشتر افراد کی پرورش ایک ایسے معاشرے میں ہوئی ہے جو اسلام سے بالکل مختلف ہے۔۔ اور ہمارا ہر چیز کو دیکھنے کا اپنا ایک نظریہ ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے اسلام قبول کیے سات سال ہو گئے ہیں اور اس دوران میں بہت سے مراحل سے گزری ہوں۔‘
جینفر بتاتی ہیں کہ جب انھوں نے نیا نیا اسلام قبول کیا تو ان دنوں کبھی وہ حجاب پہن لیتیں اور کبھی نہ پہنتیں۔ لیکن بعد میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب انھوں نے عہد کیا کہ وہ حجاب نہیں اتاریں گی۔ اور اس دوران انھوں نے تقریباً سات مہینے عبایا کے ساتھ چہرے کا نقاب بھی پہنا۔ اس دوران وہ قطر میں مقیم تھیں۔
امریکہ واپس جاکر جینیفر نے حجاب پہننا تو برقرار رکھا لیکن چہرے کا نقاب ختم کر دیا۔ پھر اگلے تین سال انھوں نے باقاعدگی سے حجاب پہنا۔
،تصویر کا ذریعہ@JENNIFERGROUT3
وہ کہتی ہیں ’اس کے بعد میں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر حجاب نہ پہننے کا فیصلہ کیا۔ لیکن قرآن کی پہلی تلاوت کے بعد جب مجھے بہت شہرت ملنے لگی تو میں نے دوبارہ حجاب پہننا شروع کر دیا۔‘
’لیکن اب آکر مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ سب کو خوش کرنے کے چکر میں جیسے میرا دم گھٹ رہا ہو۔ لوگوں نے مجھے صرف قرآن کی تلاوت کرنے والی حجابی لڑکی کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا۔‘
جینفر بتاتی ہیں کہ انھوں نے پانچ سال کی عمر میں موسیقی کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا اور ایک موسیقار کے طور پر وہ ان پلیٹ فارمز کا آغاز اسلام قبول کرنے سے کہیں پہلے کر چکی تھیں۔
’یوٹیوب چینل شروع کیے مجھے 10 سال سے زیادہ کا عرصہ، اور فیس بک پر سات سال سے زیادہ وقت ہو چکا ہے اور ان پلیٹ فارمز کا مقصد یہ تھا کہ میں خود کو ایک آرٹسٹ کے طور پر فروغ دے سکوں۔‘
وہ کہتی ہیں ’قرآن کی تلاوت کرنے والے بھی آرٹسٹ ہوتے ہیں۔ اگر آپ میری تلاوت والی پہلی ویڈیو دیکھیں تو اس میں، میں نے حجاب نہیں پہنا ہوا اور اس پوسٹ کے ساتھ میری تحریر پڑھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ میری اس راستے پر چلنے کی کوئی نیت نہیں تھی جس پر میں بعد میں چلتی چلی گئی۔ میں نے اپنے مداحوں کی نہ ختم ہونے والی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش شروع کر دی اور پھر اس دلدل میں دھنستی ہی چلی گئی۔‘
،تصویر کا ذریعہJEANGROUT/INSTAGRAM
،تصویر کا کیپشن
’مجھے سب سے زیادہ دکھ تب ہوتا ہے جب لوگ مجھے صرف اس وجہ سے مسیحی کہہ کر بلاتے ہیں کیونکہ میں ان کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہی۔ میں گانے بنا اور گا رہی ہوں‘
’سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے‘
جینفر کہتی ہیں کہ ان کے خیال میں سوشل میڈیا زندگی کو بہت مشکل بنا دیتا ہے۔ ’ایک آرٹسٹ کے طور پر آپ کو اس کی ضرورت پڑتی ہے۔۔۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ یہاں اپنا آپ بیچتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ اپنی ’ذات کا ایک حصہ‘ یہاں بیچ رہے ہوتے ہیں۔‘
جینفر سمجھتی ہیں کہ ’سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے کیونکہ یہاں اپنا منجن بیچنے کے لیے آپ لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک بار آپ ایسا کرنے کی کوششیں شروع کر دیں تو اپنی انفرادیت کھونے لگتے ہیں۔‘
’شاید اسی لیے بہت سے آرٹسٹ مشہور ہونے کے بعد ذہنی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔۔ اسی لیے میں نے سوچا ایسا کچھ ہونے سے قبل خود کو بچا لوں۔‘
وہ کہتی ہیں ’جب میں یہ کہتی ہوں کہ قرآن کی تلاوت ایک آرٹ ہے تو مجھے نہیں لگتا کہ اس سے قرآن کی روحانیت یا مذہبی اہمیت پر کوئی فرق پڑتا ہے۔ تلاوت کرنا میرے لیے بہت ہی مقدس ہے اور میں چاہتی ہوں ہمیشہ ایسا ہی رہے۔ لیکن میں صرف اس لیے حجاب پہن کر تلاوت کرتے ہوئے نظر نہیں آنا چاہتی کیونکہ لوگ مجھ سے ایسا کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔‘
جینیفر کہتی ہیں اسلام میں کسی بھی کام کو کرنے کے پیچھے سب سے اہم چیز ’نیت‘ ہوتی ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کا مسئلہ یہ ہے کہ جب بہت سارے لوگ مسلسل آپ کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہوں کہ آپ کو کیسا نظر آنا چاہیے، تو آپ کے پاس اپنا حقیقی روپ دکھانے کی گنجائش ہی نہیں بچتی۔
اس کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتی ہیں ’چلیے مان لیتے ہیں کہ مجھے حجاب پہننا پسند ہے لیکن دوسری طرف لاکھوں افراد ہر روز مجھے بتاتے ہیں ’تمھیں حجاب پہننا چاہیے۔۔ تمھیں خود کو ڈھانپنا چاہیے۔۔۔ تمھارا حجاب کہاں ہے۔۔۔ پھر اگر میں حجاب پہننے کا فیصلہ کرتی بھی ہوں تو یہ میری الجھن میں اضافہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میں خدا کی رضا کے لیے حجاب پہن رہی ہوں یا سوشل میڈیا پر موجود لوگوں کی خوشی کے لیے۔۔۔ لوگوں کی توقعات کسی کو اپنی اچھی نیت ظاہر کرنے کا موقع ہی نہیں دیتیں۔‘
وہ کہتی ہیں ’ہماری اُمہ کی صوتحال بہت بہتر ہو جائے گی اگر انھیں نیتوں کی اہمیت سمجھ آ جائے اور یہ سمجھ آ جائے کہ اسلام میں تنوع موجود ہے۔ دنیا میں بہت سی خواتین حجاب نہیں پہنتیں لیکن وہ خود کو مسلمان کہتی ہیں اور انھیں اس کا حق حاصل ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہ@JENNIFERGROUT3
،تصویر کا کیپشن
جینیفر کے حجاب کو لے کر ان پر تنقید اتنی بڑھ گئی کہ تنگ آکر انھوں نے سنیپ چیٹ کے کتے والے فلٹر کا استعمال کرتے ہوئے اپنی ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ یہ کہتے سنائی دیتی ہیں کہ ’آپ کو لگتا ہے میں حجاب کے بغیر کتے کے طرح نظر آتی ہوں تو یہ لیں آپ کی خواہشات کے پیشِ نظر میں کتا بن گئی ہوں‘
’مجھے سب سے زیادہ دکھ تب ہوتا ہے جب لوگ مجھے صرف اس وجہ سے مسیحی کہہ کر بلاتے ہیں کیونکہ میں ان کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہی۔ میں گانے بنا اور گا رہی ہوں۔‘
وہ کہتی ہیں ’کبھی کبھار میں صوفیوں کی طرح خدا سے قربت حاصل کرنے کے لیے موسیقی بناتی ہوں۔۔۔ لیکن مجھ پر تنقید کرنے والوں کو اس سب سے کوئی غرض نہیں۔۔ ان کی ساری توجہ صرف اس چیز پر ہے کہ میں نے حجاب پہن رکھا ہے یا نہیں۔‘
جینیفر نے اپنی بات کا اختتام اس بات پر کیا ’میں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ میں اپنا ذہنی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہوں اور میں اس چیز سے انکار نہیں کر رہی کہ لوگوں کے تبصرے مجھ پر اثر انداز نہیں ہو رہے ہیں۔۔ یہ صرف کوئی دو، تین ٹرولز نہیں ہیں بلکہ یہ ہزاروں افراد ہیں جنھیں میں اپنے خاندان کی طرح سمجھتی ہوں۔۔ یہ افراد بیہودہ تبصرہ کرتے ہیں اور بنا کچھ جانے غلیظ باتیں لکھ کر چلے جاتے ہیں۔۔ یہ سب میرے لیے بہت مشکل ہے۔۔‘
’لوگ مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ کمنٹس نہ پڑھو لیکن اگر آپ کے مداحوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو تو ایسا کیونکر ممکن ہے کہ میں سکرول نہ کروں؟ یہ انسانی فطرت ہے، آپ جاننا چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ میں یہ سب نظر انداز کروں اور اس سے اپنے آپ کو تکلیف نہ پہنچنے دوں لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں اس پر کھل کر بات کرنا چاہتی ہوں کیونکہ یہ ایک اجتماعی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے اور یہ صرف میرے بارے میں نہیں، دنیا بھر میں مسلمان عورتیں اس سے متاثر ہو رہی ہیں۔‘
