امریکی پابندیاں: ایران نے بنایا ’کوثر‘ جنگی طیارہ

ڈی ڈبلیو اردو بی بی سی اردو

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن پر گزشتہ روز یعنی ہفتہ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق مقامی سطح پر ڈیزائن کردہ کوثر جنگی طیاروں کی پیداوار شروع کر دی گئی ہے۔ تہران حکومت کی طرف سے یہ اعلان ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے، جب امریکا نے اس کے خلاف پابندیوں کے دوسرے راؤنڈ کا اعلان کیا ہے۔

ایک پیداواری یونٹ کا افتتاح کرتے ہوئے ایرانی وزیر دفاع امیر حاتمی کا کہنا تھا، ’’جلد ہی ضرورت کے مطابق بنائے جانے والے طیارے ملکی فضائیہ کے حوالے کر دیئے جائیں گے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دشمن کی پابندیوں‘ کے باوجود یہ اقدام ایرانی ماہرین کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتا ہے۔

ایران کی طرف سے اس تقریب کا انعقاد امریکی پابندیوں کے اعلان کے ایک روز بعد کیا گیا ہے۔ امریکا نے ایرانی خام تیل کی فروخت اور بینکنگ سیکٹر کو نشانہ بنایا ہے اور یہ پابندیاں پیر کے روز سے نافذ العمل ہو جائیں گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امید ہے کہ اس طرح ایران کو جوہری اور میزائل پروگرام مستقل طور پر بند کرنے پر مجبور اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں اس کی مداخلت کو روکا جا سکتا ہے۔

ایران ابھی تک امریکی اور روسی ساختہ جنگی طیارے استعمال کر رہا ہے لیکن ان میں سے زیادہ تر طیارے پرانے ساخت کے ہیں۔ ایران نے کوثر جنگی طیاروں کا منصوبہ اگست میں پیش کیا تھا۔ تہران حکومت کے مطابق یہ سو فیصد مقامی سطح پر ڈیزائن کیا گیا ہے اور مختلف اقسام کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

چند ماہرین کے مطابق یہ جنگی طیارے امریکی ’ایف فائیو‘ جنگی طیاروں کی نقل ہیں۔ امریکا یہ طیارے 60 کی دہائی میں مارکیٹ میں لے کر آیا تھا۔

سخت ترین پابندیاں‘

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایران پر لگنے والی یہ پابندیاں اس پر لگائی جانے والی ’اب تک کی سخت ترین پابندیاں ہوں گی۔‘ ان پابندیوں کا نشانہ ایران اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والے تمام ملک ہوں گے۔

امریکی فیصلے کے تحت 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد جو پابندیاں ختم ہوئی تھیں وہ دوبارہ عمل میں آ جائیں گی۔

تمام آٹھ ممالک کو وقتی طور پر ایران سے تیل کی خریداری کے لیے ان پابندیوں سے چھوٹ دی گئی ہے۔

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای ٹوئٹر پر کہہ چکے ہیں کہ امریکی فیصلہ اس کے اپنے مقام اور لبرل جمہوریت کے لیے باعث ’ذلت ہے۔‘

پابندیوں کی تفصیل

امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے شعبوں میں جہاز رانی، سمندری جہاز بنانے کی صنعت، مالیات اور توانائی شامل ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے سیکرٹری نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ادائیگیوں کا نیٹ ورک ’سوفٹ‘ بھی ایران سے تعلق ختم کر دے گا اور اس صورت میں ایران بین الاقوامی مالیاتی نظام سے مکمل طور پر کٹ جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل مئی میں بھی ایران پر کچھ پابندیاں دوبارہ لگا دی تھیں اور یہ پابندیوں کی دوسری کھیپ ہے۔

یران احتجاجتصویر کے کاپی رائٹEPA

کون پابندیاں کی زد میں نہیں

امریکی سیکرٹری خارجہ نے ان آٹھ ممالک کا نام نہیں بتایا جنھیں وقتی طور پر پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ وہ ایران سے تیل خرید سکیں۔ انھوں نے کہا کہ ان آٹھ ممالک نے ایران کے ساتھ تعاون اور اس سے تیل کی خرید میں بہت حد تک کمی کر دی ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ان آٹھ ممالک میں امریکی اتحادی اٹلی، جاپان اور جنوبی کوریا بھی شامل ہیں۔ روئٹرز کے مطابق ترکی کو بھی چھوٹ دی گئی ہے۔

تاہم بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق تیل کی اس فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن ایک خاص اکاؤنٹ میں جائے گی اور ایران اس سے صرف وہ اشیا خرید سکے گا جس کی اجازت ہو گی، یعنی ایران کو اس سے نقد رقم نہیں ملے گی۔

ایران کا رد عمل

ایران میں وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے اقتصادی معاملات چلانے کی صلاحیت اور علم رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا امریکہ اس طرح کے اقدامات سے کبھی اپنے سیاسی مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا۔

یورپی یونین کا موقف

برطانیہ، جرمنی اور فرانس اور یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ نے ایک مشترکہ بیان میں امریکہ کی طرف سے ایران پر پابندیاں بحال کرنے کے اقدام پر ’انتہائی‘ افسوس کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ جائز قانونی کاروبار کرنے والے افراد کو یورپی یونین کے قانون اور اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading