امریکی حملوں میں ایران کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا: ڈائریکٹر سی آئی اے کا دعویٰ

سی آئی اے کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں میں ایران کی جوہری تنصیبات کو ’شدید نقصان پہنچا‘ ہے اور جوہری پروگرام کو کئی برس پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔امریکی اینٹیلیجنس ایجنسی کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں میں اہم ایرانی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم انھوں نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

جان ریٹکلف کا یہ بیان امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی ابتدائی خفیہ انٹیلیجنس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ امریکی حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات تباہ نہیں ہوئیں بلکہ صرف چند ماہ پیچھے چلی گئی ہیں امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر امریکی حملے سے متعلق خفیہ انٹیلیجنس رپورٹ کے لیک ہونے پر سی این این اور نیویارک ٹائمز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

ریٹکلف کے بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ سی آئی اے کی معلومات میں ’تاریخی اعتبار سے قابل اعتماد اور درست ذریعہ/طریقہ سے حاصل ہونے والی نئی انٹیلیجنس شامل ہے کہ کئی اہم ایرانی جوہری تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا ہے اور ان کی دوبارہ تعمیر میں کئی برس لیں گے۔‘

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغائی نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی جوہری تنصیبات کی حالت کے بارے میں الجزیرہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ’جی ہاں، ہماری جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے کیونکہ ان (تنصیبات) کو بار بار حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading