واشنگٹن: امریکہ کے ریاست ٹیکساس میں ہندوستان نژاد امریکی ڈپٹی شیرف سندیپ دھالیوال کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔ 42 سالہ ڈپٹی شیرف سندیپ دھالیوال ٹیکساس پولس ڈپارٹمنٹ کے پہلے سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے افسر تھے۔ وہ گزشتہ 10 سال سے اسی ڈپارٹمنٹ میں اپنی ڈیوٹی پر مامور تھے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق پولس ڈپارٹمنٹ کے ایڈ گونزالیز نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ڈیوٹی کے دوران جب وہ اپنی پیٹرول کار پر معمول کے گشت پر تھے تو ان پر ایک شخص نے پیچھے سے آکر وار کیا۔ ان کا کہنا تھاکہ گھات لگائے ہوئے شخص کے پیچھے سے وار کئے جانے پر وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔
USA: America’s first turbaned Sikh police officer, Sandeep Singh Dhaliwal shot dead on Friday, during a traffic stop in Northwest Harris County in Houston, Texas.
— ANI (@ANI) September 28, 2019
امریکہ میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے سندیپ دھالیوال نے ہیرس کاؤنٹی میں شمولیت اختیار کرکے اپنی برادری کے دیگر لوگوں کے لئے بھی راہیں ہموار کی تھیں ۔ گونزالیز کا کہنا تھا کہ وہ ’پگڑی‘ باندھ کر احترم اور فخر کے ساتھ اپنی برادری کی نمائندگی کرتے تھے اور ڈپارٹمنٹ میں انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا کہ 47 سالہ رابرٹ سولس کو سندیپ کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔
گونزالیز نے بتایا کہ رابرٹ کے پاس سے ایک ہتھیار بھی ملا ہے جس پر یہ خیال کیا جارہا ہے کہ یہ وہی ہتھیار ہے جسے سندیپ کے قتل کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ گونزلز کا کہنا تھا کہ سندیپ کا قتل جس دن ہوا اس دن کو پولس افسران کے لیےبدترین سمجھا گیا۔ سندیپ کے قتل پر ہندوستان نے بھی اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ وزیر خارجہ جے شنکر نے افسوس کا اظہار بھی کیا۔
ہندوستانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں سندیپ کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس افسوسناک واقعہ کا سن کر بہت دکھ ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے سندیپ کے قتل کی معلومات کے سلسلہ میں ہوسٹن کا دورہ بھی کیا۔ ٹیکساس کے سینیٹر نے بھی اپنے ایک ٹوئٹ میں سندیپ کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
