ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی صدر کی دھمکی کے باوجود ایران نے بدھ کو صبح ساڑھے پانچ بجے عراق میں امریکی فوجی ائیر بیس پر میزائل سے حملہ کر دیا۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں 80 امریکی فوجیوں کی موت ہوئی ہے۔ حالانکہ امریکہ نے اس دعوے کو جھوٹ بتایا ہے۔
Iranian Ambassador to India Dr. Ali Chegeni: Whatever we have done is a part of our response. Millions of people who participated in the funeral of General Qassem Soleimani had demanded the government for it. We have done it. We are not looking for war. pic.twitter.com/WhDgFRwQQU
— ANI (@ANI) January 8, 2020
دوسری طرف ہندوستان میں ایران کے سفیر علی چیگینی نے کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی سمت میں ہندوستان کے کسی بھی امن والے قدم کا استقبال کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے ہیں، ہم علاقے میں سبھی کے لیے امن اور خوشحالی کی خواہش کرتے ہیں۔
غور طلب ہے کہ گزشتہ ہفتہ جمعہ کو عراق کی راجدھانی بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ایران کے سرکردہ کمانڈر قاسم سلیمانی کے مارے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ایران کے ذریعہ عراق واقع امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیے جانے کے کچھ ہی گھنٹے بعد چیگینی نے یہ بیان دیا ہے۔
ایران کے سفارتخانہ میں قاسم سلیمانی کے لیے منعقد خراج عقیدت پروگرام کے بعد چیگینی نے نامہ نگاروں سے کہا کہ دنیا میں امن بنائے رکھنے میں عام طور پر ہندوستان بہت اچھا کردار نبھاتا ہے۔ ساتھ ہی ہندوستان اسی حلقہ میں ہے۔ ہم سبھی ممالک، خصوصاً اپنے دوست ہندوستان کی طرف سے ایسے کسی بھی قدم کا استقبال کریں گے جو کشیدگی کو بڑھنے نہ دے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے ہیں۔ ہم علاقے میں سبھی لوگوں کے لیے امن اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ ہم ہندوستان کے کسی بھی قدم اور منصوبے کا استقبال کرتے ہیں جو دنیا میں امن اور خوشحالی لانے میں مددگار ہو۔ عراق میں امریکی فوجی اڈہ پر ایرانی حملے کے بارے میں چیگینی نے کہا کہ ان کے ملک نے اپنی حفاظت کرنے کے اختیار کے تحت جواب دیا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
