امریکہ اور برطانیہ کے یمن میں حوثیوں پر حملے: یہ بحیرہ احمر کو ’خون کے سمندر‘ میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے، ترکی کا ردعمل

بحیرۂ احمر میں موجود امریکی اور برطانوی بحریہ نے یمن کے مختلف علاقوں میں حوثی جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنگی بحری جہاز کے ٹوماہاک کروز میزائل اور جنگی طیاروں کے حملوں میں 16 اہم مقامات پر 60 سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں داراحکومت صنعا اور بحیرۂ احمر میں حوثیوں کا گڑھ سمجھی جانے والی بندرگاہ الحدیدہ بھی شامل ہے۔

حوثی جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی فوجی کارروائی میں ان کے پانچ ارکان ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں۔حوثی جنگجوؤں کے ترجمان یحییٰ سریع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے مجموعی طور پر 73 فضائی حملے ہوئے۔ ٹی وی پر اپنے خطاب کے دوران اُنھوں نے امریکہ اور برطانیہ کی اس فوجی کارروائی کو ’کھلم کھلا جارحیت‘ قرار دیا۔

امریکہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ دونوں مُمالک کی جانب سے یمن میں حوثی جنگجوؤں کے جن ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، ان میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، گولہ بارود کے ڈپو، میزائل لانچنگ سسٹم اور فضائی دفاعی ریڈار سسٹم شامل ہیں۔امریکی فضائیہ کے سینٹرل کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ایلکس گرینکووچ نے کہا کہ ہم مشرق وسطیٰ میں اپنے اہم شراکت داروں کے ساتھ پرعزم ہیں تاکہ حوثیوں سمیت ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا گروپوں اور ان سے علاقائی سلامتی اور استحکام کو لاحق خطرات سے دفاع کیا جاسکے۔

برطانوی وزیر اعظم کے دفتر نے ترک صدر کی جانب سے حوثی جنگجوؤں کے خلاف اس حالیہ کارروائی پر کی جانے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثیوں کے حملے حد سے زیادہ تھے۔واضح رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوغان کی نے ان حملوں پر تنقید کرتے ہوئے برطانیہ اور امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ بحیرہ احمر کو ’خون کے سمندر‘ میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم کے دفتر کے ایک ترجمان نے ان حملوں کو ’جارحیت کے جواب میں محدود اور ٹارگٹڈ حملے‘ قرار دیا۔روس کی جانب سے بھی یمن میں امریکہ اور برطانیہ کے حملوں کی مذمت کے بیانات سامنے آئے ہیں۔ روسی صدر کے دفتر کے ترجمان دمتری پیسکوف کہتے ہیں کہ ’بین الاقوامی قوانین کے مطابق یہ کارروائیاں غیر قانونی ہیں۔‘

روس، جسے مغرب کی جانب سے یوکرین جنگ کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، کا کہنا ہے کہ یمن پر حملہ اقوام متحدہ کے کسی مینڈیٹ کے بغیر کیا گیا اور یہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایک غیر قانونی ’مہم جوئی‘ تھی۔

کریملن نے جمعے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ روس ایران کا قریبی اتحادی ہے جو مبینہ طور پر حوثیوں کو اسلحہ اور تربیت دیتا ہے۔یہ حملے ایران کے حمایت یافتہ گروہ کی بحیرۂ احمر میں کارروائیوں کی وجہ سے کیے گئی ہیں، جن میں انھوں نے مسلسل تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

حماس کی حمایت کرنے والے حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اسرائیل سے تعلق رکھنے والی کشتیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں ان کی کارروائیاں غزہ پر اسرائیلی حملوں کا ردعمل ہیں۔ انھوں نے اسرائیل پر متعدد میزائل اور ڈرون حملے بھی کرنے کی کوشش کی۔

خبر رساں ادارے رؤئٹرز کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اس موقع پر کہا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے آسٹریلیا، بحرین، کینیڈا اور نیدرلینڈز کی حمایت کے ساتھ کامیابی سے حوثیوں کے اہداف کو نشانہ بنایا۔

صدر بائیڈن نے کہا ’یہ حملے ایک واضح پیغام ہے کہ امریکہ اور ہمارے اتحادی اپنے اہلکاروں کے خلاف حملے برداشت نہیں کریں گے اور مخالف عناصر کو آزادانہ آمدورفت کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘انھوں نے یہ بھی کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ مزید عسکری کارروائی کا حکم دینے سے گریز نہیں کریں گے۔

حوثی جنگجو کون ہیں اور وہ کیا چاہتے ہیں؟
تصویر،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
حوثی ایک جنگجو گروہ ہے جس کا تعلق یمن کی اقلیت زیدی شیعہ فرقے سے ہے۔

یہ گروہ 1990 کی دہائی میں تشکیل پایا تھا اور اس کا مقصد اس وقت کے صدر علی عبدللہ صالح کی کرپشن کا مقابلہ کرنا تھا۔

انھوں نے اپنا نام اس تحریک کے بانی ’حسین الحوثی‘ کے نام سے لیا ہے۔ حوثی اپنے آپ کو ’انصار اللہ‘ بھی کہتے ہیں۔

سنہ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد حوثیوں نے ’اللہ اکبر، مرگ برامریکہ، مرگ براسرائیل، یہودیوں پر لعنت، اسلام کی فتح‘ کا نعرہ لگانا شروع کیا۔

انھوں نے اعلان کیا کہ وہ حماس اور حزب اللہ کے سات ایران کے زیر سرپرستی اسرائیل، امریکہ اور مغرب کے خلاف ’مزاحمتی قوتوں‘ کا حصہ ہیں۔

یوروپی انسٹیٹیوٹ آف پیس کے یمن کے ماہر ہشام العمیسی کا کہنا ہے کہ یہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ حوثیوں کی تاریخ یہ واضح کرتی ہے کہ وہ اب بحیرہ احمر میں اسرائیل جانے والے بحری جہازوں پر کیوں حملہ کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’اب وہ دراصل سامراجی طاقتوں سے لڑ رہے ہیں، وہ ملت اسلامیہ کے دشمنوں سے لڑ رہے ہیں، اور یہ پیغام اُن کے حمایتیوں کو سمجھ آتا ہے۔‘

حوثیوں نے یمن کے ایک بڑے حصے ہر قبضہ کیسے کر لیا؟
سنہ 2014 کی ابتدا میں حوثیوں کو بڑی سیاسی حمایت تب حاصل ہوئی جب وہ علی عبدللہ صالح کے بعد یمن کے بننے والے نئے صدر عبدربه منصور ہادی کے خلاف کھڑے ہوئے۔

انھوں نے اپنے سابق حریف علی عبدللہ صالح کے ساتھ معاہدہ کر لیا تھا اور اب وہ انھیں دوبارہ سے اقتدار میں لانا چاہتے تھے۔

حوثیوں نے سنہ 2015 کی ابتدا میں یمن کے شمالی صوبے صعدہ اور اس کے بعد یمنی دارالحکومت صنعا پر بھی قبصہ کر لیا جس کے بعد صدر ہادی ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

یمن کے پڑوسی ملک سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کی حمایت کے ساتھ عسکری مداخلت کرتے ہوئے حوثیوں کو پسپا کر کے صدر ہادی کو دوبارہ طاقت میں لانے کی کوشش کی حوثیوں نے ان کی جارحیت کا مقابلہ کیا اور ابھی بھی یمن کے بڑے حصہ پر ان کا قبضہ ہے۔
سنہ 2017 میں جب سابق صدر علی عبدللہ صالح نے اپنا اتحاد تبدیل کر کے سعودی عرب کے ساتھ ملنا چاہا تو حوثیوں نے ان کا قتل کر دیا۔

حوثیوں کی مدد کون کرتا ہے؟
حوثی جنگجو لبنانی عسکری شیعہ گروہ حزب اللہ سے متاثر ہیں۔

سنہ 2014 میں امریکی تحقیقی ادارے کامبیٹنگ ٹیررازم سینٹر کے مطابق 2014 سے حزب اللہ ان حوثیوں کو عسکری مہارت اور ٹریننگ مہیا کر رہا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دشمنی کی وجہ سے حوثی ایران کو اپنا اتحادی سمجھتے ہیں۔
یہ شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ حوثیوں کو ہتھیار ایران فراہم کرتا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading