ناندیڑ ۔30/ جولائی ۔(ورق تازہ نیوز).ناندیڑ شہر اور ضلع میں گزشتہ کئی گھنٹوں سے وقفے وقفے سے موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور بعض مقامات پر آمد و رفت متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے ناندیڑ سمیت مراٹھواڑہ کے کئی اضلاع کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا ہے۔ پیش گوئی کے مطابق گرج چمک، تیز ہواؤں اور شدید بارش کا امکان ہے، جبکہ ہواؤں کی رفتار 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، زیرِ آب پلوں اور ندی نالوں کو عبور کرنے کی کوشش نہ کریں، اور موسم سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز تک ناندیڑ اور اطراف کے علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر شہریوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ناندیڑ شہر اور مضافاتی علاقوں میں گزشتہ کئی گھنٹوں سے مسلسل موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث شہر کے متعدد علاقوں میں سڑکوں پر پانی جمع ہو گیا ہے اور شہریوں کو آمد و رفت میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
آج وزیرآباد علاقے میں واقع نیتاجی سبھاش چندر بوس کالج کے مرکزی دروازے کے سامنے اچانک سڑک دھنس گئی، جس کے نتیجے میں ایک بڑا گڑھا بن گیا اور ایک کار اس میں جا گری۔

خوش قسمتی سے کار میں سوار اسی کالج کے لیکچرار چندر شیکھر انگلے محفوظ رہے۔ انہوں نے بتایا کہ کالج کی تعطیل کے بعد جب وہ اپنی کار لے کر باہر نکل رہے تھے تو سڑک پر ایک چھوٹا سا گڑھا موجود تھا۔ جیسے ہی انہوں نے وہاں سے گزرنے کی کوشش کی، چند لمحوں میں سڑک مزید دھنس گئی اور گڑھا اچانک بڑا ہو گیا، جس سے ان کی کار اس میں پھنس گئی۔ خطرے کا احساس ہوتے ہی وہ فوراً گاڑی سے باہر نکل آئے، جبکہ کار کافی حد تک گڑھے میں دھنس چکی تھی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی شہریوں نے میونسپل کارپوریشن اور عوامی نمائندوں کو اطلاع دی۔ ڈپٹی میئر دیپک سنگھ راوت سمیت مقامی کارپوریٹر موقع پر پہنچے، جہاں کرین کی مدد سے کار کو گڑھے سے باہر نکالا گیا۔
ذرائع کے مطابق جس مقام پر یہ حادثہ پیش آیا وہ میونسپل کارپوریشن کی حدود میں شامل نہیں، بلکہ ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔

ادھر مسلسل بارش کے باعث شہر سے گزرنے والی دریائے گوداوری کی سطحِ آب میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ تاہم فی الحال کسی بھی ڈیم کا دروازہ نہیں کھولا گیا ہے۔