نئی دہلی: ’جب بھی جی چاہے نئی دنیا بسا لیتے ہیں لوگ، ایک چہرے پر کئی چہرے لگا لیتے ہیں لوگ‘۔ ساحری لدھیانوی کے مشہور گیت میں شامل یہ ابتدائی مصرعے آج کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران سنائے۔ انھوں نے مذکورہ بالا مصرعوں کو الیکشن کمیشن کی کارگزاریوں سے جوڑ دیا اور بتایا کہ الیکشن کمیشن ’ووٹ چوری‘ کے مقصد سے کئی کئی چہرے لگا رہا ہے۔ کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ کو لے کر جس طرح کے انکشافات ہو رہے ہیں وہ حیران کرنے والے ہیں۔ مثلاً ’ایک نام، چہرے کئی۔ ایک چہرہ، نام کئی۔ ایک چہرہ، ایک نام، پتہ کئی۔‘
دہلی واقع پارٹی ہیڈکوارٹر میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے پون کھیڑا نے بی جے پی لیڈر انوراگ ٹھاکر کی ای ووٹر لسٹ تک رسائی کو فرضی واڑا کا پختہ ثبوت قرار دیا۔ ساتھ ہی انھوں نے وارانسی سیٹ کا الیکٹرانک ریکارڈ منظر عام پر لانے کا مطالبہ الیکشن کمیشن کے سامنے رکھ دیا۔ انھوں نے بی جے پی لیڈر انوراگ ٹھاکر کے ذریعہ فرضی ووٹرس سے متعلق کیے گئے انکشافات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے درمیان سانٹھ گانٹھ ظاہر ہو گئی ہے۔ انوراگ ٹھاکر کے انکشافات سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ لوک سبھا انتخاب فرضی ووٹر لسٹ کی بنیاد پر ہوا تھا۔
پون کھیڑا نے وزیر اعظم نریندر مودی کی وارانسی لوک سبھا سیٹ پر بھی دھاندلی کا سنگین الزام عائد کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ ووٹ شماری کے دن نصف وقت تک نریندر مودی وارانسی سیٹ پر شکست کھا رہے تھے، لیکن انھیں فرضی ووٹرس کا ایک بوسٹر ڈوز ملا اور وہ فتحیاب ہو گئے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اگر کانگریس کو وارانسی کی الیکٹرانک ووٹر لسٹ مل جائے تو یہ ثابت ہو جائے گا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ’چوری کی کرسی‘ پر بیٹھے ہوئے ہیں۔
کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے راہل گاندھی کی 7 اگست کی پریس کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اُس دن ہندوستانی سیاست میں زبردست بھونچال آ گیا تھا۔ اس پریس کانفرنس کی وجہ سے بی جے پی 6 دنوں تک صدمے میں رہی اور پھر انوراگ ٹھاکر کو پریس کانفرنس کے لیے بھیجا گیا۔ پریس کانفرنس میں انوراگ ٹھاکر نے رائے بریلی، امیٹھی، ڈائمنڈ ہاربر، قنوج سمیت 6 لوک سبھا حلقوں میں فرضی ووٹرس ہونے کا دعویٰ کیا۔
کھیڑا نے کہا کہ اس سے الیکشن کمیشن کا کردار مزید سوالوں کے گھیرے میں آ گیا ہے۔ انوراگ نے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کے ذریعہ ایک ہفتہ قبل کیے گئے انکشافات کو صحیح ثابت کر دیا ہے۔ اب صرف اپوزیشن ہی نہیں، بلکہ پورا ملک ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ کا نعرہ لگا رہا ہے۔