وزارتِ عظمیٰ پر نظریں جمائے فڑنویس نے ’بنچ آف تھاٹ‘ کے نظریات سے متاثر ہو کر ’عوامی تحفظ قانون‘ نافذ کیا: ہرش وردھن سپکال

عوامی تحفظ قانون کے خلاف کانگریس نے ریاست بھر میں احتجاج کرتے ہوئے ہولی جلائی

ممبئی: مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے جو عوامی تحفظ کے نام سے قانون نافذ کیا ہے، وہ دراصل جمہوری عدم تحفظ کا قانون ہے۔ اس ریاست کے اس ’چِپ منسٹر‘ کو اب دہلی جاکر وزیراعظم بننے کا خواب دن دہاڑے آنے لگا ہے، اور اسی مقصد کے تحت گولوالکر کی کتاب بنچ آف تھاٹ کے نظریات کو نافذ کرنے کے لیے یہ تمام کارروائی کی جا رہی ہے۔ یہ شدید حملہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا۔

یشونت راؤ چوہان سینٹر میں عوامی تحفظ قانون مخالف جدوجہد کمیٹی کی جانب سے ایک کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال، این سی پی کے صدر شرد پوار، شیو سینا کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے، رکن پارلیمنٹ سپریا سولے، رکن پارلیمنٹ انل دیسائی، ایم ایل اے وِنود نِکوَلے، اجیت نوَلے، بھرت پاٹنکر، پرکاش ریڈی، الکا مہاجن، بھال چندر کانگو، اُدے بھٹ، کامریڈ پرکاش ریڈی، راجندر کورڈے اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کانگریس ریاستی صدر نے کہا کہ مودی کے بعد وزارتِ عظمیٰ کے لیے شمال کا ایک بابا آگے بڑھ رہا ہے اور اگر وہ آگے گیا تو ان کے لیے حالات مشکل ہو جائیں گے۔ یہی سوچ کر فڑنویس نے اپنی ہی زبان والوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کا کام کیا ہے۔ اقتدار کی ہوس اور بنچ آف تھاٹ کے نظریات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہی یہ قانون لایا گیا ہے، لیکن تمام آئین پسند شہریوں کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ بائیں اور دائیں کی نظریاتی لڑائی جمہوریت کے لیے اچھی ہو سکتی ہے، مگر موجودہ خطرے کے خلاف سب کو متحد ہو کر لڑنا چاہیے۔ برطانوی راج میں ’جیل، میل اور ریل‘ کے فارمولے سے حکومت چلائی جاتی تھی اور آج کے حکمران بھی وہی فارمولا اپنا رہے ہیں۔ پیغام رسانی کے لیے پہلے خط، پھر انٹرنیٹ کے دور میں ای میل کا سہارا لیا گیا اور اب اس پر کنٹرول حکومت کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کی حالت بدترین ہے لیکن ’واٹس ایپ یونیورسٹی‘ پوری رفتار سے چل رہی ہے، اور ’جیل‘ کا مطلب ہے کہ جو حکومت کے خلاف بولے گا، اسے سیدھا قید کر دیا جائے گا۔ سپکال نے کہا کہ حکومت کے پاس ملازمین کی تنخواہوں کے لیے پیسے نہیں، مگر شکتی پیٹھ ہائی وے کے لیے 88 ہزار کروڑ روپے ہیں، جو ایک صنعت کار کے لیے بنایا جا رہا ہے۔ اسی طرح ممبئی کی زمین ایک اور صنعت کار کو دی جا چکی ہے۔ حکومت کے پاس بلڈوزر ہے اور وہ اسے جمہوریت پر بھی چلا سکتی ہے۔ اس حکومت کے پاس نہ کان ہیں، نہ آنکھیں، اور نہ ہی عقل۔ ایسی حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے جدوجہد کا طریقہ بدلنا ہوگا۔ کانگریس پارٹی نے عوامی تحفظ قانون کی سخت مخالفت کی ہے، ریاست کے ہر ضلع میں اس قانون کی ہولی جلائی گئی اور مشعل یاترائیں نکالی گئی ہیں۔ آئندہ بھی کانگریس اس قانون کی مخالفت جاری رکھے گی۔

این سی پی کے صدر شرد پوار نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگرچہ ہم نے انتخابات الگ الگ لڑے ہیں، لیکن آج قومی ضرورت کے تحت ایک ساتھ ہیں۔ جمہوریت کی بنیادوں پر خطرہ منڈلا رہا ہے، اداروں پر حملہ جاری ہے اور عدلیہ میں بھی مداخلت ہو رہی ہے۔ ایک سیاسی جماعت کے کارکن کو جج کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ عوامی تحفظ قانون نے سوچ اور بنیادی حقوق پر حملہ کیا ہے۔ اب اس حکومت کو اس کی اوقات دکھانے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے ہم پوری طاقت سے آپ کے ساتھ ہیں، پوار نے کہا۔ جبکہ سابق وزیراعلیٰ اور شیو سینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے اس موقع پر کہا کہ بائیں یا دائیں کا کوئی امتیاز کیے بغیر، جمہوریت پر آنے والے اس بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے سب متحد ہوئے ہیں۔ اس حکومت کا لایا ہوا یہ قانون منسوخ کرانے کے لیے بھرپور جدوجہد کی جائے گی۔

MPCC Urdu News 14 August 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading